کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 338
درمیان موجود ہونے کو دلیل بنا یا اور اس چیز کو کہ صحابہ نے ان کی طرح کا کام نہیں کیا تھا۔ اگر وہ نیکی کا کام ہوتا جیسا کہ خوارج سمجھتے تھے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس کی طرف سبقت کرتے۔ اور جب انہوں نے یہ نہیں کیا تو پتہ چلا کہ یہ گمراہی ہے۔ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا منہج بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے حجت نہ ہوتا تو وہ لوگ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کو کہہ دہتے کہ تم بھی آدمی ہو اور ہم بھی آدمی ہیں ۔ ۲… حضرت عمر وبن سلمہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ : ’’ جو کوئی کسی بات کو بنیاد بنانا چاہے تو وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بنیاد بنا ئے۔ کیوں کہ وہ اس امت میں سب سے زیادہ نیک دل، پختہ علم، خوشحال، سیدھی راہ والے اور کم تکلف کرنے والے تھے۔ وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے لیے اور اپنے دین کے قیام کے لیے چنا تھا۔ لہٰذا ان کی فضیلت کو پہچانو، ان کے نقش قدم پر چلو کیوں کہ وہ سیدھی راہ پر تھے۔ ‘‘ ۳… عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما : جب حروریہ [1] نکلے تو وہ ایک گھر میں جمع ہوگئے۔ ان کی تعداد ۶ ہزار تھی۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا تھا کہ وہ امیر المؤمنین جناب علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کریں گے ۔ چنانچہ ہر شخص آ کر کہتا تھا؛ اے امیر المومنین! بعض لوگ آپ پر حملہ کرنے والے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے: انہیں چھوڑ دو، میں اس وقت تک ان سے نہیں لڑوں گا جب تک وہ مجھ سے نہ لڑیں اور وہ عنقریب ایسا کریں گے۔ [2] تو ایک دن میں ظہر کی نماز سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا :اے امیر المومنین ! نماز میں تھوڑی سی تاخیر کر دیجئے، میں ان لوگوں سے بات کرتا ہوں ۔ [1] یہ حرویاء کی طرف نسبت ہے ۔یہ کوفہ سے دو میل دور ایک بستی کا نام ہے، جن خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی تھی، ان کاسب سے پہلا مرکز یہی تھا، اس لیے یہ ان کی طرف منسوب ہے۔ دیکھئے: ’’ معجم البلدان ‘‘ (۳/۳۴۵) اور ’’ اللباب فی تہذبیب الانساب ‘‘ (۱/۳۵۹)۔ [2] کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارہ میں بتا دیا تھا۔