کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 334
’’تین کے علاوہ تمام مہاجرین و انصار مرتد ہو گئے تھے۔ ‘‘ اور خمینی جو کہ عصر حاضر میں ان کے نزدیک ایک ’’آیت اللہ ‘‘ ہے اپنی کتاب ’’کشف الاسرار‘‘ صفحہ ۱۳۱ پر شیخین ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما پر لعن طعن کرتے ہوئے لکھتا ہے : ’’بے شک شیخین … اس وجہ سے ہم اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کہ ہم (مکمل افتراء و بہتان کے ذریعے)ان دونوں کی قرآن کی واضح مخالفت کرنے کے دلائل بیان کریں تاکہ ہم ثابت کر سکیں کہ یہ دونوں قرآ ن کی مخالف کرتے تھے۔ ‘‘ اور صفحہ ۱۳۷ پر لکھتا ہے: ’’ … اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت کے وقت)اپنی آنکھیں بند کر لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں ابن خطاب کے جھوٹ پر مبنی کلمات اور کفر وزندیقیت والے اعمال سے پھوٹنے والے قرآن کریم کی آیات کے مخالف الفاظ پڑ رہے تھے جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ ‘‘ رہے ’’مرجئہ‘‘ تو ان کا خیال ہے کہ پوری زندگی نفاق کی راہ پر چلنے والے منافقین اور سب سے پہلے ایمان لانے والے مہاجرین و انصار کا ایمان ایک جیسا ہے۔ تو یہ سب لوگ کیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موافقت کرنے والے ہو سکتے ہیں ؟ جب کہ یہ تو : ۱۔ بہترین صحابہ کرام کو کافر کہتے ہیں ۔ ۲۔ عقائد و اعمال کے سلسلہ میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بیان کیا ہے اسے قبول نہیں کرتے۔ ۳۔ رومی تہذیب کی خرافات اور فلسفہ یونان کی پیروی کرتے ہیں ۔ الغرض یہ فرقے ہمارے کتاب و سنت کے گواہوں کو باطل قرار دینا چاہتے ہیں اور ان پر تنقید کرنا چاہتے ہیں ۔حالاں کہ یہ خود زیادہ قابل تنقید ہیں کیوں کہ یہ زندیق ہیں ۔ اس سے واضح ہوا کہ فہم سلفی ہی فرقہ ناجیہ اور طائفہ منصورہ کا فہم ، قرآن و سنت کے احکام و مسائل کا سیکھنا اور طریقہ استدلال ہے۔