کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 330
ان کی کامل محبت، ان کے نقش قدم پر چلنے اور کتاب و سنت کے فہم میں ان کی ہدایت پرعمل کرنے میں مضمر ہے۔ ان احادیث میں سے ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: (( لَا تَسُبّوا أَصْحَابِيْ فَلَوْ أنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَھَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہُ۔ )) [1] ’’ تم میرے صحابہ کو گالی نہ دو کیوں کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو ان کے مدیا نصف مد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ یہ عظمت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو صرف اس وجہ سے نہیں ملی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تھی۔ ان سب باتوں میں کوئی شک نہیں لیکن یہ عظمت انہیں نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت زیادہ پیروی کرنے اور آپؐ کی سنت پر عمل کرنے کی وجہ سے ملی ہے۔ چنانچہ وہ اس بات کے حق دار ہیں کہ ان کے فہم کو اپنی راہ بنایا جائے اور ان کے اقوال کو قبلہ بنایا جا ئے جس کی سمت ایک مسلمان منہ کرے اور اس کے علاوہ کسی دوسری طرف متوجہ نہ ہو۔ اس کی وضاحت حدیث کے وارد ہونے کے سبب سے ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے خطاب ہے اور وہ صحابی ہیں ۔ [2] جب معاملہ اتنا عظیم ہے کہ ایک صحابی کا مد یا نصف مد اللہ تعالیٰ کے ہاں احد سے زیادہ افضل ہے تو ایک ادنیٰ سی عقل رکھنے والا شخص بھی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو سمجھنے کے لیے ان کافہم ہی وہ راہ ہدایت ہے جوصحیح موقف کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اور یہ [1] صحیح بخاری (۷/۲۱۔ الفتح)۔ مسلم (۱۲/۹۲۔ ۹۳۔ نووی) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے اور مسلم میں یہ حدیث (۱۲/۹۲۔ نووی) سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے لیکن یہ وہم ہے۔ جیسا کہ حافظ بیہقی نے ’’ المدخل الی السنن ‘‘ صفحہ: ۱۱۳ پر اور ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری (۷/۱۳۵) پر وضاحت کی ہے۔ جو اس بارے میں مزید تحقیق کرنا چاہے وہ میری تحقیق کے ساتھ چھپنے والی کتاب ’’ جزء محمد بن عاصم عن شیوخہ ‘‘ کا مطالعہ کرے۔ [2] دیکھئے: ’’ البیان والتعریف فی اسباب ورود الحدیث التعریف ‘‘ از ابن حمزہ الحسینی (۳/۳۰۴۔ ۳۰۵)۔