کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 327
لأصْحَا بَي فَاِذا ذھبْتُ أتيَ أصْحَابِيْ مَا یُوعَدُوْنَ، وَأَصْحَابِيْ أَمَنَۃٌ لِأُمَّتِيْ ، فَاِذَا ذَھَبَ أَصْحَابِيْ أَتيٰ أُمَّتِيْ مَا یُوْعَدُوْنَ۔)) ’’ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی۔ پھر ہم نے سوچا کیوں نہ ہم یہیں بیٹھے رہیں تاکہ ہم عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اداکر لیں ۔ لہٰذا ہم بیٹھ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ’’تم ابھی تک یہیں ہو؟ ‘‘ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور ہم نے سوچا کہ یہیں بیٹھے رہیں تاکہ عشاء کی نماز بھی آپ کے ساتھ ادا کریں ۔ ‘‘ آپؐ نے فرمایا : ’’ تم نے اچھا کیا، یا فرمایا: تم نے ٹھیک کیا۔ ‘‘ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور آپ اکثر آسمان کی طرف سر اٹھا یا کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ستارے آسمان کے امین (محافظ) ہیں۔جب ستارے چلے جائیں گے تو آسمان کا خاتمہ ہوجائے گا اور میرے صحابہ کا اعتماد مجھ پر ہے جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ کا وقت موعود آجا ئے گا اور میری امت کا اعتماد میرے صحابہ پر ہے جب وہ چلے جا ئیں گے تو میری امت کا وقت موعودآجائے گا۔ ‘‘[1] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی نسبت امت مسلمہ کے ان کے بعد آنے والے لوگوں کی طرف اس طرح کی ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسبت اپنے صحابہ کی طرف اور ستارروں کی نسبت آسمان کی طرف کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تشبیہ دین کے فہم میں اتباع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے واجب ہونے کو بتلاتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے امت کا اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنا ہے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے شارح اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس تشریح کو امت کی طرف [1] صحیح مسلم (۱۲/ ۷۲۔ نووی، کتاب فضائل الصحابۃ، باب بیان اَنّ بقاء النبي صلي الله عليه وسلم امانٌ لأصحابہ … حدیث: ۲۵۳۱۔