کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 323
ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ غیر سبیل المومنین کی اتباع اس وعید کا سبب بنتی ہے بلکہ یہ وعید تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پرہے۔ چنانچہ غیر سبیل المومنین کی اتباع مطلق طور پر حرام نہیں بلکہ یہ تب ہے جب اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی مخالفت ہو۔ تو ہم کہیں گے: یہ تو واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت انفرادی طور پر بذات خود حرام ہے کیوں کہ اس پر الگ وعیدآئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ o﴾ (الانفال:۱۳) ’’ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ ‘‘ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور غیر سبیل المومنین کی پیروی دونوں پر الگ الگ وعیدآئی ہے۔ اور یہ کہ غیر سبیل المومنین کی پیروی بذات خود وعید کی موجب ہے۔ اس کے کئی ایک دلائل ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں : (الف)… اگر غیر سبیل المومنین کی پیروی انفرادی طور پر حرام نہ ہوتی تو یہ مخالفت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر بھی حرام نہ ہوتی۔ (ب)… اگر غیر سبیل المومنین کی پیروی انفرادی طورپر اس وعید میں داخل نہ ہوتی تو یہ لغو ہوتی اور اس کا ذکر کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ چنانچہ ثابت ہوا کہ یہ بھی مخالفت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وعید کا ایک مستقل سبب ہے۔ اگر کہاجائے کہ غیر سبیل المومنین کی پیروی پر وعید مطلق طور پر نہیں ہے بلکہ یہ تب ہے جب کسی پر ہدایت واضح ہو جا ئے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مخالفت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا تو ’’ وضاحت ہدایت ‘‘ کی بھی شرط لگائی۔ پھر اس پر غیر سبیل المومنین کی پیروی کا عطف کیا، لہٰذا ضروری ہے کہ ’’وضاحت ہدایت ‘‘ کی شرط غیر سبیل المومنین کی پیروی پر بھی ہو۔ تو ہم کہیں گے :