کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 321
صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقہ کو قبول کرو۔ اگر عمر رضی اللہ عنہ کا فہم درست نہ ہوتا تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تائید کرنے کے بعد توجیہ نہ فرماتے۔ اور مشہور مقولہ ہے ’’ التوجییہ فرع القبول ‘‘ ’’کسی با ت کی توجیہ کرنا اس کوقبول کرنے کی ہی ایک شاخ ہے۔‘‘ (ب)… حضرت جابر، ام مبشر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ فرماتے ہوئے سنا؛ (( لَا یَدْخُلُ أحَدٌ النَّارَ اِنْ شَا ئَ اللّٰہُ مِنْ أَصْحابِ الشَّجَرَۃِ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا تَحْتَہَا۔ قَالَتْ: بَلیٰ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، فَانْتَھَرَھَا۔ فَقَالَتْ حَفْصَۃُ : ﴿وَان مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا﴾ (مریم:۷۱)۔ فَقَالَ النَّبيُ صلی اللہ علیہ وسلم : قَدْ قَالَ عزَّوَجَلَّ : ﴿ثُمَّ نُنَجِّيْ الَّذِیْنَ اتَّقَوا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّاo ﴾ (مریم:۷۲)۔)) [1] ’’ اگر اللہ نے چاہا تو جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی، ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ ‘‘ سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ڈانٹا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے (دلیل کے لیے قرآن کی آیت تلاوت کرتے ہوئے) کہا: (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ) تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو دوزخ پر سے نہ گزرے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : پھر ہم اللہ سے ڈرنے والوں کو نجات دے دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل جہنم میں چھوڑدیں گے۔ ‘‘ اُمّ المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے سمجھا کہ ’’ورودجہنم‘‘ سب لوگوں کے لیے ہے اور یہ کہ ’’ ورود‘‘ داخل ہونے کے معنیٰ میں ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلی آیت تلاوت کر کے [1] اخرجہ مسلم (۲۴۹۶)۔