کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 319
﴿وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ اَنْ یَّعْبُدُوْہَا وَاَنَابُوْا اِِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الْبُشْرٰی فَبَشِّرْ عِبَادِ o الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗط اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَاہُمُ اللّٰہُ وَاُوْلٰٓئِکَ ہُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ o﴾(الزمر:۱۷۔۱۸) ’’ اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وہ خوشخبری کے مستحق ہیں ، میرے بندوں کو خوشخبری سنادیجیے۔ جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں ، پھر جو بہترین بات ہو اس کی اتباع کرتے ہیں ، یہی ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت سے نوازا ہے اور یہی عقل مند ہیں۔‘‘ لہٰذا اللہ کے دین کتاب و سنت کو سمجھنے کے لیے ان کے راستے پر چلنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ کسی اور کی راہ اختیار کرنے والوں کو جہنم کی وعید سنائی ہے۔ اور وہ بہت ہی برا ٹھکا نہ ہے۔ اس کی وضاحت درج ذیل آیت سے ہو تی ہے َ ٭ …ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرُّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا o﴾(النساء:۱۱۵) ’’ اور جو کوئی سچی راہ کھل جانے کے بعد (یعنی پیغمبر کی پیغمبری معلوم ہوجانے کے بعد) پھر رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کا خلاف کرے اور مسلمانوں کے رستہ کے سوا دوسرا راستہ لے، تو ہم اس کو اسی راہ پر چلنے دیں گے (اسی حال پر چھوڑ دیں گے) اور (آخرت میں ) اس کو درزخ میں لے جا کر ڈال دیں گے اور وہ بری جگہ ہے جانے کی۔ ‘‘ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی راہ کے علاوہ کوئی اور راہ اختیار کرنے والوں کو وعید سنائی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کو سمجھنے میں ان کی اتباع