کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 317
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں : میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیاآپ کے پاس (قرآن مجید کے علاوہ ) کوئی اور کتاب بھی ہے ؟ انہوں نے کہا: ’’ اللہ کی کتاب کے علاوہ کوئی کتاب نہیں ہے۔ یا وہ سمجھ ہے جو ایک مسلمان آدمی کو دی جا تی ہے یا وہ جو اس صحیفہ میں ہے۔ ‘‘ میں نے کہا: اس صحیفہ میں کیا چیز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ’’دیت کے مسائل، غلاموں کو آزاد کرنے کے مسائل اور یہ بات کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جا ئے گا۔ ‘‘[1] اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کتاب و سنت کا فہم اس امت میں قیامت تک ان کے بعد آنے والوں کے لیے حجت ہے۔ اور یہی بات زمین میں اللہ کے گواہوں علماء نے سمجھی ہے۔ ٭ …اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا o﴾ (البقرہ:۱۴۳) ’’ اور اسی طرح ہم نے تم کو بہترین اُمت بنایا تاکہ تم لوگوں پر اور رسولؐ تم پر گواہ ہوجائیں ۔ ‘‘ اللہ عز وجل نے انہیں بہترین اور میانہ رو بنا یا۔ چنانچہ وہ پوری امت سے افضل اور [1] یہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف سے واضح نص ہے جو باطل شیعہ روافض کا سر کچلتی ہے، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کی طرف ظلم اور تدلیس (خیانت) کو منسوب کیا ۔ ان کا زعم باطل ہے کہ اہل بیت کے پاس ایک ایسی کتاب تھی جو اس قرآن سے تین گنا بڑی تھی جو ہمارے پاس موجود ہے۔ اور وہ اسے ’’ مصحف فاطمہ ‘‘ کا نام دیتے ہیں ۔ دیکھئے: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’ بغیۃ المرتاد ‘‘ (صفحہ: ۳۲۱۔ ۳۲۲) اس میں اس موضوع سے متعلق اچھی بحث موجود ہے۔ اس روایت کو بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے۔ (۱/۲۰۴۔ الفتح)۔