کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 310
کہ یہ پیاسے کو سیراب نہیں کرتیں اور بیمار کر شفا ء نہیں دیتیں ۔مجھے سب سے زیادہ سمجھ میں آنے والا انداز قرآن کا نظر آیا جو کسی چیز کو ثابت کرنے میں بھی محکم ہے۔ جیسے کہ: ا…﴿ اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ ط﴾ (فاطر:۱۰) یعنی ’’اس کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں ۔ ‘‘ اور کسی چیز کی نفی کرنے میں بھی بہترین ہے۔ جیسے کہ فرمایا: ب…﴿ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ ط﴾ (الشوریٰ :۱۱) ’’اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ ‘‘ اور جس کو میری طرح کا تجربہ ہوا ہے اس کو مجھ جیسی خصومت حاصل ہوئی ہے۔‘‘ امام رازی رحمہ اللہ نے جس طرف اشارہ کیا ہے یہ تو صرف قرآن کریم کے وہ خبری دلائل ہیں جو ان کے مشاہدے میں آئے ہیں ، ورنہ قرآن کے عقلی دلائل جن کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے یا راہنمائی کی ہے وہ تو بے شمار ہیں ۔ چنانچہ قرآن کریم کے یہی عقلی و نقلی دلائل اس کا امتیاز ہیں ۔ ان دلائل کو جاننے والا شخص علم میں پختہ کار ہو جا تا ہے اور یہی وہ علم ہے جس سے دل مطمئن ہو جاتا، روح کو تسکین، عقل کو پاکیزگی، بصیرت کو روشنی اور دلیل کو قوت حاصل ہو تی ہے۔ اور یہ وہ علم ہے کہ جو بھی شخص اس کو دلیل بنائے، کائنات میں کوئی اس کی دلیل کا ردّ نہیں کر سکتا۔ بلکہ جو ا سکی مدد سے بحث کرتا ہے اس کی دلیل غالب آجاتی ہے۔ اس سے سینہ کھل جا تا ہے اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت آسان ہو جاتی ہے الغرض قرآن کی دلالت عقلی، قطعی اور یقینی ہے۔ اس میں شبہات اور احتمالات داخل نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ایک دفعہ سمجھ لینے کے بعد یہ دل سے نکلتی ہے۔ کسی متکلم کا قول ہے : ’’ میں نے ساری عمر علم کلام میں دلیل تلاش کرنے میں گزار دی ہے لیکن میں مسلسل دلیل سے دور ہوتا گیا۔ پھر میں نے قرآن کی طرف رجوع کیا، اس میں غور و فکر کیا تو مجھے سچی دلیل مل گئی جس کا مجھے پتہ نہیں تھا۔ تب میں نے کہا: