کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 306
والجماعۃ ہوتے ہیں ۔) لہٰذا آپ اس زیادہ علمیت پر غور کریں جس میں کامیابی پانے والا شخص جاہلوں کو مبارکباد دیتا ہے اور صرف جاہلوں کو ہی نہیں بلکہ پرلے درجے کے جاہلوں کو۔ اور وہ خواہش کرتے ہیں : اے کاش! وہ ان جاہلوں میں سے ہوتے، ان کے دین کو اختیار کرتے اور ان کے طریقے پر چلتے۔ چنانچہ بلند آواز سے پکار پکارکر کہتے ہیں اور انتہائی واضح ترین دلیل دیتے ہیں کہ وہ جس علمیت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اس سے جہالت بدرجہا بہتر ہے۔ تو آپ کا اس علم کے بارے میں کیا خیال ہے جس کا عالم خود اقرار کرے کہ اس سے جہالت بہتر ہے۔ اس کی انتہاء پر پہنچ کر اور اس کی آخری حدوں کو چھونے کے بعد یہ خواہش کرے کہ وہ اس علم سے جاہل اور عاری ہوتا۔ لہٰذا اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبر ت ہے اور اہل نظر کے لیے اس میں نشانی ہے۔ وہ اس جہالت پر ہی عمل کیوں نہیں کر لیتے جس پر وہ اس مقام معرفت پر فائز ہونے سے پہلے قائم تھے تاکہ اس کے نتائج سے محفوظ رہتے اور اس کی شفقت سے بچے رہتے اور انہیں یوں نہ کہنا پڑتا جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے : أَرَی الْأَمْرَ اِلیٰ اٰخِرٍ یَصِیْرُ اٰخِرُہُ أَوَّلًا ’’میں سمجھتا ہوں کہ معاملہ اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن وہ انتہاء ہی ابتداء بن جاتی ہے۔ ‘‘ تاکہ وہ اس خواہش سے چھٹکارا پا لیتے اور عوام الناس کو یہ مبارکباد دینے سے محفوظ رہتے۔ کیوں کہ عقل مند شخص اپنے برابر یا اس سے کم مرتبہ ومقام کی خواہش نہیں کرتا اور نہ وہ اپنے برابر یا اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو نذرانہ عقیدت پیش کرتا ہے کیوں کہ یہ چیزیں تو اس شخص کے لیے ہوتی ہیں جو مقام ومرتبہ میں اس سے بلند تر ہو۔ تعجب ہے اس علم پر جس سے بڑی سے بڑی جہالت بھی زیادہ مرتبہ و مقام رکھتی ہو اور