کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 302
آپ جانتے ہیں کہ یہ اجر علمی اور صاف ستھرے منہج پر قائم رہنے سے ہی مل سکتا ہے۔ جس کی راتیں اس کے دنوں کی طرح روشن ہیں ۔ اس سے صرف وہی شخص انحراف کرتا ہے جو تباہ ہونے کا ارادہ کرتا ہے، اس کو صرف وہی شخص چھوڑتا ہے جو گمراہ ہو اور اس میں صرف وہی شخص شک کرتا ہے جس کی عقل میں فتور ہو۔ جو لوگ اسلاف کی اس طرح قدر نہیں کرتے جس طرح قدر کرنے کاحق ہے اور جو ان کے مقام کو نہیں پہنچانتے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اسلاف محض ’’نصّی‘‘لوگ تھے جو محض نصوص کے ظاہر پر اعتماد کرتے تھے اور ان میں ذرا بھی عقل استعمال نہیں کرتے تھے۔ یعنی وہ نصوص کو ان کے مطلوب کو سمجھے بغیر تسلیم کر لیتے تھے۔ ان کے معانی کو جانے بغیر اللہ کے سپرد کر دیتے تھے اور ان عبادات میں لگے رہتے تھے جن کو وہ زیادہ مفید اور نفع بخش سمجھتے تھے۔ اسلاف کو ’’ایسے گہرے علمی منہج سے ‘‘جسے کتاب و سنت کے فہم میں قاضی کی حیثیت دی جا ئے اور اختلاف و تفرقہ کی صورت میں اس کی پناہ لی جا ئے، عاری ثابت کرنے کی یہ کوشش کرنے والے دوایسے وہموں پر قائم ہیں جو بے لگام اور بے مہار ہیں ۔ اگر چہ اہل کلام ایک دوسرے کو نقل کرتے آئے ہیں ۔ پہلا وہم: مذہب سلف میں سلامتی ہے لیکن مذہب خلف زیادہ علمی اور پختہ ہے آپ اس بات کے بودے پن پر غور کریں جو گمراہی کی انتہاء کو چھو رہا ہے۔ کیوں کہ اس میں کئی اعتبار سے خرابیاں پائی جا تی ہیں ۔ ۱… خلف نے سلامتی، علم اور حکمت میں فرق کیا ہے حالاں کہ علم و حکمت تو سلامتی کی ہی بنیاد ہیں جو کہ علم کی سواری پر چلتی ہے اور حکمت کے پیچھے اپنے دامن کو باندھے ہوئے ہے۔ تو عقلیں سبب اور اس کے نتیجہ میں تفریق کیسے کر سکتی ہیں ؟ یہ محال ہے۔ ۲…اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے، ان دونوں کے بارے میں زیادہ علم رکھنے والے اور بہترین لوگ کیسے ہو سکتے ہیں جب کہ بھلائی تو صرف علم و حکمت میں مضمر ہے۔