کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 291
چناں چہ اگر ہم یہ صورت اختیار کر یں اور ان میں سے کسی ایک کی بات کو مان لیں تو لازماً ہمیں دوسرے کی بات کو چھوڑنا پڑے گا، نتیجتاً ہم تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی سنت کے پیرو کار نہیں رہیں گے اور مذکورہ حدیث کی مخالفت ہو جا ئے گی۔ اس سے ہمیں ایک مفتی یاد آگیا جو اندلس میں ہمارے ساتھ ہوتا تھا مگر تھا جاہل آدمی۔ اس کی عادت یہ تھی کہ وہ پہلے دو ایسے آدمیوں سے فتویٰ لکھواتا تھا جن پر اس دور میں فتویٰ کا دارو مدار تھا پھر وہ ان کے فتویٰ کے نیچے لکھ دیتا تھا کہ ’’میرا بھی وہی موقف ہے جو شیخین نے فرمایا ہے۔ ‘‘ ایک دفعہ ایسا ہی ہوا کہ ان دونوں کا آپس میں اختلاف ہو گیا۔ تو جب ا س نے ان دونوں کے فتوے کے نیچے مذکورہ بات لکھی تو حاضرین مجلس میں سے ایک نے کہا: حضرت ! شیخین کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے، تو اس نے کہا : ’’اگر ان کا اختلاف ہے تو میں بھی اختلاف کر تا ہوں ۔‘‘ [1] ۳…ابو محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب یہ دونوں صورتیں ناجا ئز ہیں توصرف تیسری صورت باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ: ’’ہم ان باتوں کو لے لیں جو احادیث کے فہم میں انہوں نے کی ہیں اور جن پر ان کا اتفاق تھا ۔خلفائے راشدین کاا جماع صرف انہیں باتوں میں ہو سکتا ہے جن میں باقی تمام صحابہ بھی ان کے ساتھ متفق ہوں یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں غور کر کے انہوں نے کہا ہو۔‘‘ اسی طرح جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفائے راشدین کی اتباع کا حکم دیا ہے تو اس کی بھی دو ہی وجو ہات ہو سکتی ہیں : ۱:…یا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی سنت سے ہٹ کر و دیگر کوئی سنتیں بنا نے کی اجازت [1] یہ ایسے شخص کی مثال ہے جو خود کو عالم ظاہر کرتا ہے اور مشکیزہ کو بھرنے سے پہلے ہی لوگوں کو پانی پلانا شروع کر دیتا ہے یا نشانہ لینے سے پہلے ہی تیر چھوڑ دیتا ہے۔