کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 288
کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا منہج علمی تھا؟ بہت سی احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ استدلال و استنباط کے اعتبار سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا منہج خالصتاً علمی اور نہایت دقیق تھا۔ ان میں سے چند ایک احادیث دلیل کے لیے پیش خدمت ہیں : ۱…(( أُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالسَّمْعِ وَالطَاعَۃِ، وَاِنْ عَبْداً حَبَشِیًّا، فَاِنَّہِ مَنِ یَعِشْ مِنْکُمْ فَسَیَریٰ اِخْتِلَافاً کَثِیْراً، وَاِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ فَاِنَّہَا ضَلَالَۃُ، فَمَنْ أَدْرَکَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الْمَہْدِیِّیْنَ الرَّاشِدِیْنَ تَمَسَّکُوْا بِہَا وَ عَضُّوْا عَلَیْھَا بِالنَواجِذِ۔)) ۱ جناب عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ میں تمہیں اللہ کے تقویٰ اور امیر کی بات کو غور سے سن کر عمل کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، خواہ وہ ایک حبشی غلام ہی ہو، کیوں کہ جو تم میں سے زندہ رہے گا وہ یقینا عنقریب بہت اختلاف دیکھے گا۔ اور تم (دین میں ) نئے کاموں سے اجتناب کرو، کیوں کہ یہ گمراہی ہے۔ چنانچہ تم میں سے جو شخص یہ زمانہ پائے اسے چاہیے کہ میرے اور ہدایت یافتہ میرے خلفاء راشدین کے طریقے کواختیار کرے ۔تم لوگ میرے اور ان کے طریقے کو عملاً مضبوطی سے تھامے رکھنا۔ ‘‘ [1] [1] صحیح، اسے ابو داؤد (۴۶۰۷)، ترمذی (۶۷۶) اور ابن ماجہ (۴۳، ۴۴) میں عبد الرحمن بن عمر والسلمی کی سند سے درج کیا گیا ہے۔میں کہتا ہوں : یہ تابعی ہیں جن سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت بیان کی ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے۔ ابن حبان نے اپنی صحیح میں ، ابن ابی عاصم نے ’’ السنہ ‘‘ میں (۳۲،۵۷) اور ابو داود رحمہ اللہ نے حجر بن حجر سے اس کی متا بعت نقل کی ہے۔ اور حجر بن حجر بھی تابعی ہے، اسے ابن حبان نے ثقہ کہا ہے اور خالد بن معدان کے لاوہ کسی نے اس سے روایت بیان نہیں کی۔ اور اس حدیث کی ایک اور بھی سند ہے، اور وہ یحییٰ بن ابی المطاع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے عرباض بن ساریہ سے یہ حدیث سنی، اسے ابن ماجہ نے صفحہ ۴۲ پر، اور حاکم نے جلد: ۱ صفحہ: ۹۷ پر بیان کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن دحیم رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہے کہ یحییٰ بن ابی المطاع کی عرباض بن ساریہ سے یہ روایت مرسل ہے۔ میں کہتا ہوں : یحییٰ نے عرباض سے سماع کی وضاحت کی ہے اور اس تک سند صحیح ہے۔ (واللہ اعلم )۔ اس حدیث کی اس کے علاوہ بھی کئی سندیں ہیں ۔ الغرض یہ حدیث بلاشبہ ثابت ہے۔ اس حدیث کی صحت اور اسے دلیل بنانے پر تمام علماء کا اتفاق ہے اور ابن قطان الفاسی کے علاوہ کسی نے بھی علیحدہ مؤقف نہیں اپنایا۔اس کا اور اس کے مقلدین کا ردّ ہم کہیں اور کریں گے۔ ان شاء اللہ!