کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 286
زیادہ امت کی اکثریت پر طعن کرنے والے ہیں ۔ تو وہ اسلاف کی اتباع سے جتنے زیادہ دور ہیں اتنے ہی بدعت پر ستی میں مشہور ہیں ۔ ‘‘ تو پتہ چلا کہ اہل بدعت کی سب سے بڑی علامت اتباع سلف سے دامن چھڑا لینا ہے۔ اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ نے عبدوس بن مالک کو اپنے خط میں لکھا تھا کہ : ’’ کسی کام کے سنت ہو نے کی بنیاد ہمارے نزدیک اس راہ کو اختیار کرنا ہے جس پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ گامزن تھے۔ ‘‘ پھر شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : (۴/۱۵۶) ’’یہ ناممکن ہے کہ اسلاف کی پیروی اہل بدعت کا شیوہ اور علامت بن جائے سوائے ان (اہل بدعت ) کے کہ جن میں جہالت زیادہ اورعلم کم ہو۔ ‘‘ سلفیت کی طرف دعوت جو کچھ پیچھے بیان ہوا ہے، اسی حق بات کے پیش نظر ہم اللہ عزوجل کی کتاب کریم اور صحیح سنت و حدیث پرقائم فہم سلف صالحین کے مطابق سلفی دعوت کو دنیا میں چہار دانگ عالم پھیلانے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں ۔ تاکہ اہل السنہ والجماعۃ کے دائرہ میں داخل چاروں فقہی مذاہب میں سے ہر مسلک و مذہب کو اس ’’ سلفی جماعت حقہ و منصورہ اہل السنہ والجماعۃ‘‘ میں داخل کیا جا سکے۔ اور فرقہ وارانہ تعصب کو چھوڑ کر تمام لوگ سلف صالحین کے فہم پر قائم قرآن و سنت والے منہج کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں ۔ اگر ہماری اس دعوت پر یْہ کہا جائے: یہ تو ہمیں یاد ہی نہیں تھا۔ (کہ اُمت کو خالصتاً قرآن و سنت والی راہ پر لا کر اسے دنیا میں پھر سے ایک کامیاب ملت بنایا جا سکتا ہے۔) اور اللہ تعالیٰ ہماری حلت کو خوب جانتا ہے۔ ‘‘ تو میں پھر عرض کروں گا: ایک کہنے والے نے کس قدر شاندار بات کہی ہے: فَإِنْ کُنْتُ لَا تَدْرِیْ فَتِلْکَ مُصِیْبَۃٌ أَوْ کُنْتُ تَدْرِیْ فَالْمُصِیْبَۃُ اَعْظَمُ