کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 276
جانتے ہیں اور محدثین صوفیاء [1] دوسرے صوفیاء سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں ۔محدثین امراء دوسروں سے زیادہ نبوی سیاست کے حقدار ہوتے ہیں اور ان میں سے عام لوگ بھی دوسرے لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کے حقدار ہوتے ہیں۔‘‘ تیسري بحث … ہر سمجھدار کے لیے تنبیہ: اگر یہ کہا جائے کہ ہم قرآن کی طرف نسبت کر کے خود کو اہل قرآن کیوں نہیں کہتے؟ تو میں کہوں گا: کیا آپ نے علامہ ابو القاسم ھبۃ اللہ بن حسن الالکائی (متوفی سنہ ۴۱۸ ھ) کا قول نہیں سنا جو انہوں نے اپنی منفرد کتاب ’’ شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ ‘‘ (۱/ ۲۳۔ ۲۵) میں فرمایا ہے کہ : ’’محدثین کے علاوہ جو شخص بھی کسی مذہب کا معتقد ہوتا ہے وہ اس مذہب کے بانی کی طرف نسبت کرتا ہے اور اس کی رائے کو معتبر سمجھتا ہے۔ جب کہ محدثین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کرتے ہیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پر ہی اعتماد کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دلیل بناتے ہیں ، آپ کو ہی اپنا مرکز و محور بناتے ہیں ، آپ کی رائے کی پیروی کرتے ہیں ، اس پر فخر محسوس کرتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے دشمنوں پر گرفت کرتے ہیں ۔ پھر نیک نامی اور عظمت میں کون ان کا مقابلہ کرسکتا ہے؟ چونکہ ان کا نام کتاب و سنت اور ان سے ماخوذ معانی پر مشتمل ہے اور وہ کتاب و سنت کے ساتھ تمسک میں منفرد ہیں ، اس لیے وہ صرف اللہ عزوجل کا اپنی کتاب حکیم میں لفظ ’’الحدیث‘‘ کا ذکر کرنے کی بنا پر اپنی نسبت حدیث کی طرف لگاتار کرتے چلے آرہے ہیں ۔ چنانچہ اللہ کریم نے فرمایا ہے: [1] ان صوفیاء سے مراد وہ صوفیاء نہیں ہیں کہ جن کے افکار و عقائد اسلام سے منحرف کرادینے والے ہوتے ہیں جیسا کہ میں نے اپنی کتاب ’’الجماعات الاسلامیۃ فی ضوء الکتاب والسنۃ بفہم سلف الامۃ‘‘ میں اس کی وضاحت کی ہے۔ شیخ کی مراد یہاں زاہد محدثین ہیں ۔