کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 268
یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی گمراہی کے وقت راہ راست پر رہیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے سنت میں پیدا کردہ بگاڑ کو درست کریں گے۔ یہی پردیسی قبائل ہیں ، کیونکہ وہ کم ہوگئے ہیں ۔ چنانچہ ابتدائی مسلمانوں کی طرح بعض قبیلوں میں تو ایسا آدمی صرف ایک ہی ہوتا ہے اور آئمہ کرام اس حدیث کی یہی تفسیر کرتے ہیں ۔ ‘‘ امام اوزاعی رحمہ اللہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم : (( بَدَأَ الْاِسْلَامُ غَرِیْبًا وَسَیَعُوْدُ غَرِیْبًا کَمَا بَدَأَ۔ )) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : ’’اسلام ختم نہیں ہوگا بلکہ اہل سنت ختم ہو جائیں گے حتیٰ کہ ملک میں صرف ایک اہل سنت رہ جا ئے گا۔ ‘‘ اور اس معنیٰ کے لیے اسلاف کے کلام میں سنت کی بہت مدح کی گئی اور اس کو ’’غربت‘‘ کی صفت سے اور اہل سنت کو ’’ قلت ‘‘ کی صفت سے متصف کیا گیا ہے۔ چنانچہ امام حسن بصری رحمہ اللہ اپنے ساتھیوں کوکہا کرتے تھے :’’اے اہل سنت! نرمی کیا کرو کیوں کہ تم لوگوں میں سب سے کم ہو۔ اللہ تم پر رحم کرے۔ ‘‘ اور یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’سنت سے اجنبی کوئی چیز نہیں اور سنت کو جاننے والا سنت سے بھی زیادہ اجنبی ہے۔ ‘‘ حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’اہل سنت کی خیر خواہی کرو کیوں کہ وہ غرباء ہیں ۔ ‘‘ ان ائمہ کرام کے نزدیک سنت سے مراد: ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ طریقہ ہے جس پر آپ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ گامزن تھے، جو شبہات اور خواہشات سے پاک ہے۔ ‘‘ اسی لیے ’’فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے تھے: ’’ اہل سنت وہ ہے جو جانتا ہو کہ اس کے پیٹ میں داخل ہونے والی چیز حلا ل ہے۔ ‘‘ کیونکہ حلال کھاناا س سنت کی سب سے بڑی خصوصیت میں سے ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔