کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 264
آئے گا جیسے سانپ اپنی بل میں گھس جاتا ہے۔ ‘‘[1] ۲… لفظ ’’ غُرَبَائُ ‘‘ کی تفسیر لفظ ’’ غرباء ‘‘ کی بہت سی تشریحات کی گئی ہیں ۔ میں ان سے ہر ایک کو بیان کرتے ہوئے قول فیصل تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ۱…پردیسی قبائل:… یہ تفسیر صرف عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے، لیکن وہ حدیث ضعیف ہے۔ کیونکہ اس حدیث کا دارومدار علی ابواسحق السبیعی نامی راوی پر ہے ۔ جب کہ وہ مدلس اور مختلط ہے۔ ۲…جو فساد کے وقت اصلاح کرتے رہیں : یہ تفسیر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی صحیح الاسناد حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی یہی تفسیر کی گئی ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بعض اسناد میں بکر بن سلیم الصواف نامی راوی ضعیف ہے، لیکن اس کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی یہی تفسیر کی گئی ہے۔ اسی طرح جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں بھی غرباء کی یہی تفسیر ہے۔ اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن صالح کاتب اللیث نامی راوی ضعیف ہے، لیکن اس سے بطورِ استشہاد یہ روایت قبول کی جاسکتی ہے۔ عبدالرحمن بن سنۃ کی حدیث میں بھی یہی تفسیر ہے، لیکن اس حدیث کی سند میں اسحق بن عبداللہ بن ابی فروہ متروک راوی ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت جو کہ صحیح الاسناد ہے، میں بھی یہی تفسیر ہے۔ یحییٰ بن سعید کی مرسل روایت، جو کہ سند کے اعتبار سے کمزور ہے، میں بھی یہی تفسیر بیان کی گئی ہے۔ مذکور بالا تصریح سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس بارے میں مروی احادیث صحیح اور [1] ضعیف: دیکھئے مذکورہ کتاب، اس حدیث کی اور بھی سندیں ہیں جو صحیح ہیں جن میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے۔