کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 262
ہیں ؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پردیسی قبائل۔ ‘‘[1] ایک روایت میں ہے: ’’لوگوں کی گمراہی کے وقت راہ راست پر رہنے والے۔ ‘‘[2] ۲… سیّدنا عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِنَّ الْاِسْلَامَ بَدَأَ غَرِیْبًا، وَسَیَعُوْدُ غَرِیْباً کَمَا بَدَأَ، وَھُوَ یَأرِزُ بَیْنَ المَسجِدَیْنِ کَمَا تَأرِزُ الحَیَّۃُ فِي جُحْرِھَا۔)) ’’اسلام آغاز میں اجنبی تھا اور عنقریب وہ دوبارہ اجنبی ہوجا ئے گا جیسا کہ آغاز میں تھا۔ اور وہ دو مسجدوں کے درمیان جا ئے گا، جیسے سانپ اپنی بل میں گھس جاتا ہے۔ ‘‘[3] ۳… جناب عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( طُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ۔ فَقِیْلَ: مَنِ الْغُرَبَائُ؟ قَالَ: أُنَاسٌ صَا لِحُوْنَ فِي أُنَاسِ سَوْئٍ کَثَیْرٍ، مَن یَعْصِیْھِمْ أَکْثَرُ مِمَّن یُطِیْعُھُمْ۔ وفي روایۃ: الفَرَّارُوْنَ بِدِیْنِھِمْ یَبْعَثُھُمُ اللَّہُ عزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) ’’ خوشخبری ہے غرباء کے لیے۔ پوچھا گیا: غرباء کون ہیں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ برے لوگوں میں رہنے والے اچھے لوگ، جن کے نافرمان ان کے فرمانبرداروں سے زیادہ ہوں گے۔ ‘‘[4] اور ایک روایت میں ہے:’’ اپنے دین کو بچا کر بھاگ جانے والے۔ اللہ تعالیٰ انہیں روز قیامت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ اٹھا ئے گا۔ ‘‘[5] [1] ضعیف: جیسا کہ میں نے اپنی کتاب ’’ طوبی للغرباء ‘‘ نمبر: ۱ پر واضح کیا ہے۔ [2] صحیح، جیسا کہ گذشتہ مصدر نمبر ۱ میں ہے۔ [3] صحیح مسلم (۲/۷۶۔ نووي)۔ [4] اس کے تمام طرق صحیح ہیں ، جیسا کہ اپنی کتاب ’’ طوبی للغرباء ‘‘ میں وضاحت کی ہے۔ [5] ضعیف: جیسا کہ مصدر سابق میں میں نے وضاحت کی ہے۔