کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 258
’’ اہل بدعت کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل حدیث کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اور زنادقہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل حدیث کو خس و خاشاک کہتے ہیں ۔ وہ ان باتوں کے ذریعے حدیث کو باطل کرنا چاہتے ہیں ۔ اور قدریہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل سنت کو مشبہہ کہتے ہیں ۔ جب کہ رافضیوں کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل حدیث کو نوخیز اور کمزور کہتے ہیں ۔ ‘‘[1] صابونی رحمۃ اللہ علیہ ’’عقیدۃ السلف‘‘ صفحہ ۱۰۵تا۱۰۷میں فرماتے ہیں : ’’اور یہ ساری باتیں عصبیت ہیں اور اہل سنت کا صرف ایک نام ہے اور وہ ہے اہل حدیث۔ ‘‘ پھر فرماتے ہیں : ’’میں نے اہل بدعت کو دیکھا ہے کہ وہ ان ناموں کے ساتھ اہل سنت کو موسوم کرتے ہیں جو ان کی توہین پر مبنی ہوتے ہیں ۔ حالاں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے ان میں سے کسی کے نام کے ساتھ میل نہیں کھاتے۔ اس طرح اہل بدعت اہل سنت کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرتے ہیں جو مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکھتے تھے۔ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مختلف قسم کی باتیں کرتے تھے۔ بعض آپ کو جادو گر کہتے تھے ، بعض کاہن، بعض شاعر اور بعض آپ کو جھوٹا ، بداخلاق اور کذاب کہتے تھے۔ حالاں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام عیوب سے پاک اور مبرا تھے۔آپ تو سراسر ایک چنیدہ نبی اور رسول تھے صلی اللہ علیہ و بارک و سلم تسلیما کثیرا۔ ‘‘ اللہ عزوجل فرماتے ہیں : [1] ابن ابی حاتم نے اپنے رسالہ ’’ اصل السنۃ واعتقاد الدین ‘‘ مطبوعہ مجلۃ الجامعہ السلفیہ۱۴۰۳ھـ رمضان کے شمارہ میں ذکر کیا ہے۔ اور صابونی رحمہ اللہ نے ’’ عقیدہ السلف ‘‘ صفحہ: ۱۰۵ پر اور لالکائی رحمہ اللہ نے ’’ شرح اصول الاعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ ‘‘ (۲/۱۷۹) میں بیان کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ اثر صحیح ہے۔