کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 255
کرتے ہیں ۔ لیکن جب جھوٹے اور مکار لوگوں کی اس پر نگاہ پڑتی ہے تو ان کے دل غیض و غضب اور حسد سے بھر جاتے ہیں ۔ آپ کہیں : جاؤ اپنے غصے میں ہی مرجاؤ۔ [1] یہی امت کے پہلے مثالی گروہ کی صفت ہے۔ ﴿ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِِنْجِیلِ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ﴾ (الفتح:۲۹) ’’ اورانجیل شریف میں ان کی مثال ایک کھیتی کی سی بیان کی گئی ہے جس نے زمین سے اپنی سوئی نکالی(مولکہ یا پٹھا )پھر اس کو زور دارکیا تو وہ موٹی ہوگئی۔ اب نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اورکسانوں کو بھلی لگنے لگی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ(اس لئے کیا) کہ کافر ان کودیکھ کر جلیں ۔ ‘‘ طائفہ منصورہ کی مخالفت کرنے والے اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل حدیث والے طائفہ منصورہ کی بھی یہی صفت ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اصحاب کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرتے اور ان کے چشمہ صافی سے کتاب و سنت کی صورت میں فیض یاب ہوتے ہیں ۔ کفار کو زچ کرنے کے قصد سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ایسا گروہ ہے جس کا پودا اللہ تعالیٰ نے لگایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تربیت کے ساتھ اس کو پروان چڑھایا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں ۔ کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ان دشمنوں کو غصہ دلانے کا ذریعہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے اور مسلمانوں کے دلوں میں روشن چنگاری کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نور کو مکمل کرنے والے ہیں خواہ مشرک ناپسند کریں ۔ اور اپنے دین کو غالب کرنے والے ہیں خواہ کافر وں کو برا لگے۔ اسی لیے آپ اہل بدعت کو دیکھیں گے کہ وہ ہر زمانے میں اور ہر جگہ اہل حدیث سے دشمنی رکھتے ہیں ۔ [1] یہاں شیخ محترم کا اشارہ سورۃ آل عمران کی آیات ۱۱۸ ، ۱۱۹ کے موضوع کی طرف ہے۔