کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 243
مالک رضی اللہ عنہم اجمعین کی روایات بھی ہیں اور ان سب کی حدیث ایک ہی ہے۔ [1] انہی احادیث میں اس فرقے کی صفت ’’ناجیہ ‘‘بیان کی گئی ہے جو اپنی اصل پر باقی رہے گا۔ اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا۔ کیوں کہ وہ اختلاف سے بھی نجات پا جا ئے گا اور عنقریب اللہ تعالیٰ کے حکم سے جہنم سے بھی نجات حاصل کرے گا۔ ۲…طائفہ منصورہ کے متعلق احادیث ا: جناب معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: (( لَا یَزَالُ مِنْ أُمَّتِیْ اُمَّۃٌ قَائِمَۃً بِأمْرِ اللّٰہِ، لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَذَلَھُمْ، وَلَا مَنْ خَالَفَھُمْ حَتَّی یّأتِیَ أَمْرُ اللّٰہِ وَھُمْ عَلیٰ ذٰلِکَ۔)) [2] ’’ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گا، جو ان کو رسو ا کرنے کی کوشش کرے گا یا ان کی مخالفت کرے گا انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ وہ اسی (دین) پر قائم رہیں گے حتیٰ کہ قیامت آجائے گی۔ ‘‘ اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی عمیر فرماتے ہیں کہ مالک بن یخامر نے کہا کہ جناب معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (( ہُمْ بِالشَّامِ۔)) … ’’وہ شام میں ہوں گے۔ ‘‘ معاویہ نے کہا: یہ مالک رحمۃ اللہ علیہ ہیں جن کا خیال ہے کہ انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : ’’وہ لوگ شام میں ہوں گے۔ ‘‘ ب…درج ذیل الفاظ کے ساتھ حدیث مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہے: [1] اس کی اسناد انتہائی کمزورہیں جیسا کہ میں نے ’’ نصح الأمۃ فی فہم احادیث افتراق الأمۃ ‘‘ میں صفحہ: ۲۲ تا ۲۷ پر وضاحت کی ہے۔ [2] متفق علیہ: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس کے آٹھ طرق ہیں جن کی تخریج میں نے ’’اللالیء المنثورۃ بأوصاف الطائفۃ المنصورۃ‘‘ میں کی ہے۔