کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 225
اسلامی بیداری کی راہ کا سنگ میل ٭…امت مسلمہ کی موجودہ صورت حال سنت مطہر ہ میں بڑے واضح الفاظ میں بیان کی گئی ہے، لہٰذا عصر حاضر میں دینی کام کے خواہش مند افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ کتاب و سنت کے عالم ہوں اور محض اپنی عقلوں ، اپنے اندازوں اور تجربات کی بنیاد پر معاملات میں غوروفکر (قیاس)کرنے کو چھوڑ دیں۔ اسی لیے کتاب و سنت سے جاہل محض،صرف تحریکی شعور رکھنے والے اور حالات سے بے خبر نام نہاد علماء کا وجود دعوت الی اللہ کے میدان میں کام کرنے والی جماعتوں کو ان کی عزت کے مرکز اور سر چشمہ ہدایت سے دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ٭ …کتاب و سنت کے علماء پر واجب ہے کہ وہ اسلام کے لیے کام کرنے والی جماعتوں کی راہنمائی کے اپنے منصب پر متمکن ہوں ۔ کیونکہ وہی اس امت کے قائدین اور راہنما ہیں ۔ اگر وہی دنیا کی طرف مائل ہو گئے اور قافلہ ٔدعوت سے پیچھے رہ گئے تو کون مسلمان نوجوانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے طوفان کو صحیح رخ دے گا جن کا نصب العین اسلام کی عظمت و سربلندی ہوتی ہے۔ ٭ …اسلام کو اس ’’دُھند‘‘ سے صاف کرنا ضروری ہے کہ جس نے اس کے مزے کو کر کرا اور اس کے چشمہ کو گدلا کر دیا ہے تاکہ یہ دین حنفی صحیح دعوتی لباس میں چمکدار ، نہایت صاف ستھرا ہو کر واپس (اپنی اصلی حالت میں ) پلٹ آئے۔ ٭ …ایک بیدار مغز قوم کی تربیت کی ضرورت ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثالی قوم تیار کی تھی۔ ٭ …اسلام کے لیے کام کرنے والے تمام لوگوں کی کوششوں کو متحدو مشترک ہونا ضروری