کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 212
سے وہ انجمنیں ، جماعتیں ، مشاورتی کمیٹیاں اور تنظیمیں قائم کرتے ہیں ۔ اسی لیے (حدیث میں ) ان کی صفت ’’دُعاۃٌ ‘‘ (دعوت دینے والے )وارد ہوئی ہے۔ اور ’’دُعاۃ ‘‘ دال کے ضمہ کے ساتھ ، داعی کی جمع ہے اور دُعاۃٌ ایک ایسی جماعت کو کہتے ہیں جو اپنی بات پر ڈٹی ہوئی ہو اور لوگوں کو بھی اس کے ماننے کی دعوت دیتی ہو۔ [1] یہ نبوی تنبیہات اور سنت کی روشنی ان لوگوں کے لیے ہاتھ کا اشارہ ہیں جو حالات سے ناواقف ہیں اور محض آلہ کار بن کر وہی کچھ کہتے ہیں جو سمندر اور سرحد پار سے انہیں ہدایات ملتی ہیں ۔ یہ امت مسلمہ کے لیے تنبیہات ہیں تاکہ وہ کفار کی چالوں سے بچ جائیں اور انہیں یہ توفیق مل جا ئے کہ وہ مجرموں کی راہ اختیار نہ کریں ۔ بلاشبہ ہمیں ان کے اثرات مسلمانوں کی تاریخ میں ملتے اور پوری کائنات ھست و بود میں ان کے فسادات نظر آتے ہیں ۔ اس کی مثالیں بے شمار ہیں ۔یہ ہمیں ہر زمانے اور ہر جگہ پر ملتی ہیں ۔ شروع سے لے کر عصر حاضر تک گمراہی کی طرف بلانے والی تنظیمیں اپنی آواز بلند کرتی اور جہنم کی طرف بلاتی رہی ہیں ۔ (اللہ کی پناہ) یہ وہی لوگ ہیں جو بھو نک بھونک کر جمہوریت کی طرف اور گدھے کی طرح ہینکتے ہوئے اشتراکیت کا پرچار کرتے اور قومیت کا واویلا کرتے ہیں ۔ جبکہ عوام الناس ہانپتے ہوئے ان کے پیچھے (دوڑ رہے)ہیں ۔ اسی بنیاد پر دخن کو بھڑکانے والے گمراہوں کے امام بنتے ہیں اور اسی سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام ، اہل اسلام اور سلطنت اسلامیہ پر حملوں کے سلسلہ کی اسلامی تاریخ میں گہری جڑیں ہیں ۔ ۳۔ دھوکے والے سال حدیث حذیفہ رضی اللہ عنہ سے تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ بظاہر تو اس دور میں خیر ہو گی [1] عون المعبود از عظیم آبادی (۱۱/۳۱۷)۔