کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 209
ہی ہیں ۔ لیکن پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں کوئی شبہ نہیں چھوڑا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی کے ساتھ اس کی وضاحت کر دی جو محض ایک اٹکل نہیں تھی۔ چنانچہ حدیث حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ میں ان لوگوں کی علامات بیان ہوئی ہیں جنہیں ائمہ کفر نے اپنی نگرانی میں تربیت دی اور اپنے دودھ پر پالا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( نَعَمْ؛ دُعَاۃٌ عَلیٰ أَبْوَابِ جَہَنَّمَ،مَنْ اَجَابَہُمْ اِلَیْہَا قَذَفُوْہُ فِیْہَا، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صِفْہُمْ لَنَا۔ قَالَ: ہُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَیَتَکَلَّمُوْنَ بِأَلْسِنَتِنَا۔)) ’’ہاں جہنم کے دروازوں پرپکارنے والے کھڑے ہو ں گے، جو ان کی بات مانے گا وہ اسے اس (جہنم) میں پھینک دیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں ان کی صفات بتائیں ۔ فرمایا: ہمارے جسموں میں سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان میں گفتگو کریں گے ۔ ‘‘ گویا یہ ان کی پہلی علامت ہے جس کے ذریعے وہ پہنچانے جائیں گے۔ لہذا وہ نسب یا لغت کے اعتبار سے عربی ہوں گے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری کی جلد ۱۳صفحہ ۳۶پر لکھتے ہیں : ’’اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری قوم اور ملت میں سے ہوں گے اور ہماری زبان بولیں گے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عربی ہوں گے۔ ‘‘ امام دوادی ّ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اس سے مراد یہ ہے کہ وہ بنی آدم سے ہوں گے۔ ‘‘ اما م قابسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :