کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 207
ہے۔ اور امت مسلمہ میں دو بیماریاں یعنی زندگی کی محبت اور جہالت پھوٹ پڑی ہیں ۔ اسی لیے اب یہ نیکی کا حکم دینے والی ، برائی سے روکنے والی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والی قو م نہیں رہی۔ لہٰذا اس سے ’’خیرا مت ‘‘[1]کا لقب چھن گیا کیوں کہ اس نے اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کی شرط پوری نہیں کی۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَنْتُمْ عَلیٰ بَیّنَۃٍ مِنْ رَبِّکُمْ، تَأمُرُونَ بِالْمَعْرُوْفِ، وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَتُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ، ثُمَّ تَظْھَرُ فِیْکُمُ السَّکْرَتَان سَکْرۃُ الجَھْل، وَسَکْرَۃُ حُبِّ الْعَیْشِ، وَسَتَحَوَّلُوْنَ عَنْ ذٰلِکَ، فَلَا تَأمُرُوْنَ بِمَعْرُوفٍ، وَلَا تَنْھَوْنَ عَن مُنْکَرٍ، وَلَا تُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، الْقَائِمُوْنَ یَوْمَئِذٍ بِالْکِتَابِ وَالسُّنّۃِ لَھُمْ أَجْرٌ لِّخَمْسِیْنَ صِدِّیْقاً۔‘‘ قَالوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مِنَّا أَوْ مِنْھُمْ؟ قَالَ: ’’ لَاَ ، بَلْ مِنْکُم۔ْ‘‘)) ’’ تمہارے پاس تمہارے رب کی دلیل موجود ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہو۔ پھر تمہارے اندر دو بیماریاں پیدا ہو جائیں گی، جہالت کی بیماری اور زندگی سے محبت کی بیماری۔ اور عنقریب تمہاری حالت بدل جائے گی۔ تم نہ تو کسی نیکی کا حکم دو گے اور نہ کسی برائی سے منع کرو گے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو گے ۔ اس دور میں کتاب و سنت پر قائم رہنے والوں کے لیے ۵۰ صدیقوں کے برابر اجر ہو گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم میں سے (۵۰ صدیقوں کے برابر) ہوگا؟ یا اس دور کے (۵۰صدیقوں کے برابر؟) [1] اشارہ ہے: کنتم خیر امۃ اخرجت للناس … کی طرف (مترجم )۔