کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 194
تعالیٰ نے تجھے کسی کمزور اور بے کار گھرانے میں پیدا نہیں کیا۔ لہٰذا تو ہمارے پس آ جا، ہم تیری خاطر مدارت کریں گے۔ ‘‘ لہٰذا اے عقلمند مسلمان اور اے میرے پیارے بھائی! غور و فکر کر و کہ سلطنت اسلامیہ کا گھیراؤ کرنے والے کفار کیسے ان رازوں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور جیسے ہی ان کو موقع ملتا ہے وہ ہر طرف سے اس پر جھپٹ پڑتے ہیں ۔اس کی وضاحت درج ذیل بات سے ہوتی ہے۔ ٭…کافر قومیں اسلام ، اہل اسلام ، مبلغین اسلام اور اسلامی حکومت کیخلاف سازشیں کرنے کے لیے ایک دوسرے کو دعوت دیتی اور ان کو جمع کرتی رہتی ہیں ۔ جس شخص نے صلیبی جنگوں کی تاریخ پڑھی ہے اور جو شخص پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے واقف ہے، اسے معلوم ہے کہ کیسے ان کمینوں (کافروں ) نے خلافت اسلامیہ کے خاتمے کے لیے فوج کشی کی تھی۔ اس کے لیے یہ دلیل روز روشن کی طرح واضح ہے۔ حتی کہ جب ان کا یہ مقصد پورا ہو گیا تو پہلے انہوں نے ایک جماعت کی بنیاد رکھی۔ پھر ایک ’’ھیئہ‘‘ اور’’ مجلس‘‘ (کمیٹی)کی اس کے بعد اللہ کے دشمنوں نے ایک نئے بین الاقوامی نظام کی بنیاد رکھی۔ ان کی اس بھوک کو حرص اور لالچ بھڑکاتا رہتا ہے۔ اس کی توضیح درج ذیل بات سے ہوتی ہے: ٭…تیسری بات یہ ہے کہ مسلم ممالک بھلائیوں اور برکتوں کا سرچشمہ ہیں اور کافر قومیں ان پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں ۔ اسی لیے رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو پاکیزہ کھانے سے بھرے ہوئے ایک پیالے کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو کھا نے والوں کی بھوک چمکاتا ہے اور وہ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ ہر ایک چاہتا ہے کہ اسے شیر کی طرح حصہ ملے۔ ٭…کافر قومیں مسلمانوں کامال ہڑپ کر گئیں ۔بغیر کسی رکاوٹ اور مقابلہ کے ان کا سرمایہ چرالیا اوران کے عمدہ اور اچھے ذخائر پر قبضہ جما لیا۔ ٭…کفار نے مسلمان ممالک کو چھوٹے چھوٹے لشکروں اور مختلف ریاستوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: وہ بیان کرتے ہیں کہ