کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 193
کفار، مشرکین اور اہل کتاب کی آغاز اسلام سے ہی… جب کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ اور اس کے گردو نواح میں اسلامی حکومت کا بیج بویا اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا تھا… یہی روش رہی ہے۔ اوریہ بات ((الثَّلاثَۃ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْ ا)) والی حدیث میں وضا حت سے مذکور ہے۔ جیسا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : (( بَیْنَماَ أَنَا أَمْشِیْ فِی سُوْقِ الْمَدِیْنَۃِ اِذَا نَبَطیُّ مِنْ نَبَطِ أَھْلِ الشَّامِ مِمَّنَ قَدِمَ بِالطَّعَامِ یَبِیْعُہُ بِالْمَدِیْنَۃِ ، یَقُوْل: مَنْ یَدُّلُ عَلیٰ کَعْبِ بنِ مَالِکٍ؟فَطَفِقَ النَّاسُ یُشِیْرُوْنَ لَہُ حَتَّیٰ جَائَ نِی ،فَدَفَعَ اِلیَّ کِتَاباً مِنْ مَلِکِ غَسَّانَ، وَکُنْتُ کَا تِباً ،فَقَرَأتُہُ فَاِذَا فِیْہِ: ’’أَمَّا بَعْدُ ،فَاِنَّہ قَدْ بَلَغَنَا أں صَاحِبَکَ قَدْ جَفَاکَ، وَلَمْ یَجْعَلْکَ اللّٰہُ بدَارِ ھَوان ٍ وَلَا مَضِیْعَۃٍ فَالْحِقْ بِنا ، نُوَاسِکَ‘‘۔))[1] ’’(غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے واقعہ کے نتیجہ میں اللہ عزوجل کی طرف سے ہماری توبہ کے بارے میں کسی حکم کے انتظار والے دنوں کی بات ہے کہ) … ایک دفعہ میں مدینہ کے بازار میں پھر رہا تھا کہ میں نے انا ج فروخت کرنے کے لیے مدینہ میں آئے ہوئے ایک نبطی (جو شام کا رہنے والا تھا اور جس کا نام فلاح تھا) کو یہ کہتے ہوئے سنا :’’مجھے کعب بن مالک کے پاس کو ن لے کر جائے گا ‘‘ لوگ میری طرف اشارہ کرنے لگے حتی کہ وہ میرے پاس آیا اور مجھے غسان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط دیا۔میں چونکہ کاتب (لکھنا پڑھنا جانتا) تھا۔ سو میں نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا: ’’ أمَّا بعد! ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ تیرے ساتھی(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تجھ پر ظلم کیا ہے، حالانکہ اللہ [1] متفق علیہ: اس حدیث سے میں نے فوائد و مسائل کا استنباط ایک مستقل کتاب ’’اتحاف السالک بذکر فوائد حدیث المخلفین من روایۃ کعب بن مالک‘‘ میں کیا ہے اور یہ سو سے زیادہ فوائد ہیں ۔