کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 190
بہت جلد جان لیتے اور خلل والے ذرائع سے فوراً متنبہ ہو جاتے ہیں ۔ یہ سعادت مند لوگ اپنے دین کی طرف واپس پلٹنے والے مرحلہ میں نئے سرے سے عمل صالح کرنے میں جلدی کرتے ہیں ۔ جس سے اللہ عزوجل ان سے ذلت کو اُٹھا لیتا ہے اور ان کی شان و شوکت کو مضبوط کر دیتا ہے۔ تب ان کی بادِ بہاری پھر سے چلنے لگتی ہے۔ حالانکہ اس سے قبل ان کی ہوا نہایت گرم پچھوا ہو چکی ہوتی ہے۔[1] خیرالقرون میں ایسے لوگ بھی ہوتئے جنہوں نے اسلام میں اس طرح سے نشوونما پائی تھی کہ وہ جاہلیت کو جانتے تک نہ تھے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پھر مرورِ زمانہ کے ساتھ اسلام کے کڑے ( احکام و نواہی) ایک ایک کر کے ٹوٹنے لگے۔ البتہ یہ ضرور تھا کہ جب بھی اسلام کا کوئی کڑا ٹوٹتا، اہل ایمان مسلمان لوگ اس سے نیچے والے کڑے کو مضبوطی سے تھام لیتے۔ لیکن وہ ظلمت و اندھیرا کہ جس نے آج اُمت مسلمہ کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے باوجودیکہ بہت سخت اور پرخطر ہے، لیکن مجھے اپنے رب پر واضح دلائل کی بنا پر مکمل یقین ہے کہ یہ اندھیرا جلد ہی چھٹ جائے گا۔ اللہ وحدہ کے حکم سے،ان شاء اللہ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس صورتِ حال کو اسلام کی نظر سے دیکھیں اور اس کے اسباب کا تدارک کریں اور اس کے بعد اسی منہج کو اپنا کر عزت حاصل کریں کہ جس کے سوا کوئی دوسرا منہج اس اُمت کے آخری فرد تک درست نہیں ہے، کیونکہ پہلے لوگوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ) کے لیے بھی یہی منہج درست تھا۔ اللہ مدد کرنے والا ہے، اسی پر میرا اعتبار و بھروسہ اور سہارا ہے۔ آپ کا بھائی ابواُسامہ سلیم بن عیدالہلالی [1] اس لیے ہمیں جلد از جلد اپنے نفسوں کا محاسبہ کرتے ہوئے ان اسباب و عوامل کا ادراک کرنا چاہیے جو آج ہماری ذلت و پستی کا باعث بنے ہوئے ہیں اور دوبارہ سے اپنے اصلی دین حنیف پر عمل کرنا شروع کرنا چاہیے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو یقینا اللہ تعالیٰ ہم سے ذلت کو دور کرکے کافروں کے دلوں میں ہمارا رعب دبدبہ ڈال دے گا اور ہمارے اکھڑے ہوئے قدموں کو جما دے گا۔