کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 182
حق کو ردّ نہ کرو! اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجے اور ان کو اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی دعوت دینے کا حکم دیا۔ لیکن اکثر اُمتوں نے رسولوں کو جھوٹا کہا، اور حق کو ردّ کردیا جس کی طرف ان کو دعوت دی گئی تھی اور وہ ہے توحید۔ چنانچہ ان کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ۔ )) [1] ’’ جس کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی تکبر ہوا، جنت میں نہ جائے گا۔ ‘‘ پھر تکبر کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: (( الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ۔ )) ’’ حق کو ٹھکرادینا اور لوگوں کو حقیر جاننا تکبر ہے۔ ‘‘ لہٰذا مومن کے لیے بالکل جائز نہیں کہ وہ حق اور خیر خواہی کو ردّ کرے تاکہ کافروں کے مشابہ نہ بن جائے۔ اور اس تکبر میں نہ واقع ہو جو جنت جانے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ دانائی مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں بھی ملے وہ اس کو اُٹھالے۔ حق کہیں سے بھی آئے، اس کو قبول کرنا واجب ہے، خواہ شیطان کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو صدقہ فطر پر نگران بنایا۔ ایک چور چوری کرنے لگا تو انھوں نے اس کو قابو کرلیا۔ اس نے منت سماجت کی تو چھوڑ دیا۔ پھر دوبارہ آیا، پھر آیا۔ اب کی بار انھوں نے کہا کہ میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کروں گا۔ وہ کہتا ہے مجھے چھوڑ دیں ۔ میں تمھیں ایک آیت سکھاتا ہوں ، اگر اس کو پڑھوگے تو شیطان تیرے قریب بھی نہیں پھٹکے گا۔ پوچھا: وہ کون سی آیت ہے؟ کہتا ہے: آیۃ الکرسی۔ پھر اس کو چھوڑدیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو وہ کون تھا؟ وہ شیطان تھا۔ [1] صحیح مسلم: ۱/ ۳۲۷، کتاب الایمان، باب: تَحْرِیمِ الْکِبْرِ وَبَیَانِہِ۔