کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 175
’’ اگر کوئی پتھر میں نفع کا عقیدہ رکھتا ہو تو وہ پتھر بھی اس کو فائدہ دے گا۔ ‘‘ اور بھی بے شمار موضوع احادیث ہیں ۔ ایک اور بڑی مشہور حدیث ہے: (( جَنِّبُوْا مَسَاجِدَکُمْ صِبْیَانَکُمْ، وَمَجَانِیْنَکُمْ۔)) ’’ بچوں اور پاگلوں کو اپنی مسجدوں سے دُور رکھو۔ ‘‘ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ ضعیف ہے۔ اور حافظ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ صحیح نہیں ہے۔ اور عبدالحق نے کہا کہ اس کی کوئی اصل نہیں ۔ اس کے برعکس صحیح حدیث میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( عَلِّمُوْا أَوْلَادَکُمُ الصَّلَاۃَ إِذَا بَلَّغُوْا سَبْعًا، وَاضْرِبُوْہُمْ عَلَیْہَا إِذَا بَلَّغُوْا عَشْرًا،وَفَرِّقُوْا بَیْنَہُمْ فِیْ الْمَضَاجِعِ۔ )) [1] ’’ اپنے بچوں کو نماز سکھاؤ سات سال کی عمر میں اور نہ پڑھنے پر دس سال کی عمر میں ان کی پٹائی کرو۔ ‘‘ اور یہ تعلیم مسجد میں ہوگی، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو منبر پر چڑھ کر نماز سکھائی اور مسجد نبوی میں بچے بھی آیا کرتے تھے، حتی کہ چھوٹے بچے بھی آتے تھے۔ (۱) … کسی حدیث کا حوالہ کہ ترمذی نے بیان کیا کافی نہیں ۔ کیونکہ ان کتب میں تو ضعیف روایات بھی ہیں ۔ بلکہ اس حدیث کا درجہ حسن، صحیح، ضعیف بیان کرنا لازم ہے۔ البتہ یہ کہہ دینا کہ اس کو بخاری یا مسلم نے بیان کیا کافی ہے۔ کیونکہ ان کی تمام احادیث صحیح ہیں ۔ اس پر اُمت کا اتفاق ہے۔ (۲) … ضعیف حدیث کی سند یا متن میں کسی کمزوری کی وجہ سے اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ثابت نہیں ہوتی۔ ہم جب بازار میں جاتے ہیں ۔ اگر وہاں اچھا گوشت اور کمزور جانور کا گوشت بک رہا ہو تو ہم اچھا لیتے ہیں ، کمزور گوشت چھوڑ دیتے ہیں ۔ اسلام نے ہمیں قربانی کے لیے بھی موٹا جانور لینے کا حکم دیا اور ضعیف و ناتواں ترک [1] صحیح وضعیف الجامع الصغیر، ج: ۱۶، ص: ۱۲۰۔