کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 173
سَیِّدِکُمْ، إِلیٰ طَلْحَۃَ، إِلیٰ فَاطِمَۃَ۔)) جب کہ منع والی احادیث میں قیام ’’ لہ ‘‘ کا لفظ ہے۔ ان میں بہت فرق ہے ’’ إلیہ ‘‘ کا معنی جلدی جاؤ اس کا تعاون کرو، یا اس کا اکرام کرو، جب کہ قام لہ کا معنی اپنی جگہ پر تعظیم کے لیے کھڑا ہونا ہے۔ ضعیف اور موضوع احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب احادیث کے کئی درجات ہیں ۔ کئی ضعیف، موضوع اور کئی صحیح اور حسن درجے کی ہیں ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح کے مقدمے میں ضعیف روایات سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ ’’ ایک باب ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کرنا منع ہے۔ ‘‘ اور پھر اس پر دلیل ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( کَفَی بِالْمَرْئِ کَذِبًا اَنْ یُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ۔ )) [1] ’’ کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو آگے بیان کردے۔ ‘‘ امام نووی نے شرح مسلم شریف میں لکھا ہے: ’’ باب ہے کہ ضعیف راویوں سے روایت کرنا منع ہے۔ ‘‘ پھر اس کی دلیل کے لیے حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( سَیَکُونُ فِي آخِرِ اُمَّتِي اُنَاسٌ یُحَدِّثُونَکُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا اَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُکُمْ، فَإِیَّاکُمْ وَإِیَّاہُمْ۔ )) [2] ’’ آخری زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو تمھیں ایسی حدیثیں سنائیں گے جو نہ تم نے نہ تمہارے آباء نے سنی ہوں گی۔ ان سے بچ کر رہنا۔ ‘‘ اور امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں لکھا ہے: [1] صحیح مسلم: ۱/ ۱۲، ذکرہ فی مقدمۃ صحیحۃ، باب: النَّہْيِ عَنِ الْحَدِیثِ بِکُلِّ مَا سَمِعَ۔ [2] صحیح مسلم: ۱/ ۱۲، ذکرہ فی مقدمۃ صحیحۃ، باب: النَّہْيِ عَنِ الضُّعَفَائِ وَالاِحْتِیَاطِ فِي تَحَمُّلِہَا۔