کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 169
’’ صحابہ کرام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبوب کوئی نہیں تھا پھر بھی جب وہ آپ کو دیکھتے تو کھڑے نہ ہوتے۔ کیوں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کے مکروہ ہونے کو جانتے تھے۔ ‘‘ (۱) … اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جو مسلمان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں وہ اپنے آپ کو جہنم پر پیش کرتا ہے۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ سے شدید محبت کے باوجود جب آپ کو داخل ہوتے ہوئے دیکھتے تو اس قیام کے مکروہ ہونے کی وجہ سے بالکل کھڑے نہ ہوتے تھے۔ (۲) … لوگوں کی عادت ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ، خصوصاً جب استاذ کلاس میں آئے تو سب کھڑے ہوجاتے ہیں ، (بلکہ حکم ملتا ہے " Class Stand Up" اور پھر جو کھڑا نہ ہو اس کو استاذ کے عدم احترام بلکہ گستاخی کی وجہ سے ملامت کی جاتی ہے۔ طلبہ کے ملامت کرنے پر اور طلبہ کے کھڑے ہونے پر استاذ صاحب کا خاموش رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس پر راضی ہے، جس پر وہ شیخ یا استاذ اپنے آپ کو جہنم پر پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔ اگر وہ اس کو ناپسند کرتے ہوتے تو طلبہ کو منع کرتے اور طلبہ بھی استاذ کے کہنے پر رُک جاتے اور وہ استاذ ان کو اس قیام سے منع کرنے والی حدیث کی شرح کرکے سمجھاتے تو ان سب کے لیے بہتر ہوتا۔ [1] استاذ یا عالم کے لیے مسلسل کھڑا ہونے سے اُن کے دل میں قیام کی محبت شروع ہوجاتی ہے۔ پھر اگر کوئی نہ کھڑا ہو تو وہ ناک چڑھاتا ہے۔ یوں یہ کھڑے ہونے والے شیطان کے معاون بن جاتے ہیں اور لوگوں میں قیام کی محبت پیدا کردیتے ہیں ۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا تَکُونُوا عَوْنَ الشَّیْطَانِ عَلَی اَخِیکُمْ۔ )) [2] [1] فوجی سلامی اور گارڈ آف آنر کے وقت بھی اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں جو کہ ممنوعہ شکل ہے۔ [2] صحیح البخاري: ۲۲/ ۲۹۶، کتاب الحدود، باب مَا یُکْرَہُ مِنْ لَعْنِ شَارِبِ الْخَمْرِ وَإِنَّہُ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِنَ الْمِلَّۃِ۔