کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 167
’’ ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو نماز میں سستی کرتے ہیں ، (اور یہ اس وقت ہے جب اس نے نماز تو پڑھی مگر لیٹ کرکے۔) ‘‘ (۳) … رہی وہ حدیث کہ اپنے مرنے والوں پر یٰسین کی تلاوت کرو۔ (( اقراؤا علی موتاکم یٰسین۔)) تو یہ حدیث بقول ابن قطان رحمۃ اللہ علیہ موقوف بھی ہے، اس میں ایک راوی مجہول بھی ہے اور یہ مضطرب بھی ہے۔ دارِ قطنی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ حدیث مضطرب ہے۔ اس کا متن بھی مجہول ہے اور یہ صحیح نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ ثابت نہیں کہ انھوں نے یہ سورت میت پر پڑھی ہو یا فاتحہ پڑھی ہو یا کوئی اورسورت۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے فرماتے تھے، جب کسی کو دفن کرلیتے: (( اسْتَغْفِرُوا لِأَخِیکُمْ وَسَلُوا لَہُ التَّثْبِیتَ فَإِنَّہُ الآنَ یُسْاَلُ۔ )) [1] ’’ اپنے بھائی کے لیے اللہ سے استغفار کرو اور اللہ سے اس کے لیے ثابت قدمی کی دُعا کرو، کیوں کہ اب اس سے سوال کیا جارہا ہے۔ ‘‘ (۴) … ایک مقرر کو میں نے سنا، کہتا ہے: مسلمان تیری بربادی ہو، ساری زندگی قرآن کو تو نے چھوڑے رکھا اور اس پر عمل نہ کیا۔ جب موت قریب ہوئی تو لوگوں نے تجھ پر سورۃ یٰسین پڑھی تاکہ تیری آسانی سے جان نکل جائے۔ تو کیا قرآن اس لیے تھا کہ تو زندہ ہو یا اس لیے آیا تھا کہ تو مرجائے؟ (۵) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ نہیں سکھایا کہ قبرستان میں جاتے وقت فاتحہ پڑھو، بلکہ ان کو یہ تعلیم دی کہ ایسے موقع پر یوں کہو: (( السَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُسْلِمِینَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّہُ لَـلَاحِقُونَ،اَسْاَلُ اللَّہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ۔ )) [2] [1] سنن أبي داؤد: ۹/ ۴۴۱، کتاب الجنائز، باب: الاِسْتِغْفَارِ عِنْدَ الْقَبْرِ لِلْمَیِّتِ فِي وَقْتِ الاِنْصِرَافِ، حدیث: ۳۲۲۱۔ [2] صحیح مسلم: ۶/ ۲۱۸، کتاب الجنائز، باب: مَا یُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَائِ لاَہْلِہَا۔