کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 164
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہتا ہے، جو اللہ نے چاہا اور آپ نے چاہا۔ آپ نے جواب دیا: (( أَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا؟ بَلْ مَا شَائَ اللّٰہُ وَحْدَہُ۔ )) [1] ’’ ارے تو نے مجھے ربّ کا ہمسر بنادیا؟ یوں کہو: جو صرف اللہ نے چاہا۔ ‘‘ ’’ نِدًّا ‘‘ ہمسر اور شریک کو کہتے ہیں ۔ (۳) … اس مذکورہ صیغے بِہٖ کی جگہ بِہَا پڑھ لیا جائے اور عدد والی بات بھی ختم کردی جائے تو یہ صیغہ درست ہوجاتا ہے۔ تب یہ صیغہ یوں ہوگا: (( أَللّٰہُمَّ صَلِّ صَلَاۃً کَامِلَۃً وَسَلِّمْ سَلَامًا تَامًّا عَلَی مُحَمَّدٍ الَّتِیْ تُحَلُّ بِہَا الْعُقَدُ … )) ’’ تب معنی یوں ہوگا: اس دُرود کی برکت سے عقدے کھولے جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ دُرود عبادت ہے، جس کے واسطے سے تکالیف اور غم دُور کیے جاتے ہیں ۔‘‘ لیکن ہمیں ان تکلّفات کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ہم کیوں یہ خود ساختہ صیغہ پڑھتے پھریں اور معصوم نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات کو چھوڑ دیں؟ قرآن زندوں کے لیے نہ کہ مردوں کے لیے اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿ کِتَابٌ اَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوْا الْاَلْبَابِ o﴾ [ص:۲۹] ’’ یہ کتاب ہم نے تیری طرف نازل فرمائی ہے، یہ مبارک ہے تاکہ وہ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں ۔ ‘‘ [1] أخرجہ النسائي في عمل الیوم واللیلۃ: ۹۸۸۔