کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 16
ہے۔‘‘ (بعینہٖ بدعات و خرافات ان کے ہر رگ و رشیہ میں سما جائیں گی۔) اسی معنی کی احادیث ساداتنا ابو ہریرہ، انس بن مالک، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہم اجمعین سے مسند الامام احمد اور کتب سنن میں بھی درج ہیں ۔[1] اور جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشادِ گرامی ہے: ﴿فَتَقَطَّعُوْا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ زُبُرًا کُلُّ حِزْبٍ بِّمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ﴾ (المؤمنون: ۵۳) ’’پھر وہ اپنے معاملے میں آپس میں کئی گروہ ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔‘‘ ہر گمراہ سے گمراہ فرقہ بھی اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے۔ اگر معاملہ یہاں تک ہوتا تو شاید قابل برداشت تھا مگر ان دنوں ملت کی صورتِ حال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ : گمراہی کی راہ پر قائم فرقوں کے لوگوں کو جب عین قرآن و سنت والے اصلی دین حنیف کی دعوت دی جاتی ہے تو ان ٹولوں کے سربراہان و قائدین اور پیران و مرشدین اپنے کارکنان و مریدین کو اہل حق کے خلاف بھڑکا کر انہیں ان مردانِ حق کے خون کا پیاسا بنا دیتے ہیں ۔ ایک ہی ماحول، معاشرے اور بسا اوقات ایک ہی خاندان و قبیلے کے لوگ اس تفرقہ بندی کی زد میں آکر یوں ایک دوسرے سے بیگانے ہو جاتے ہیں گویا صدیوں سے کوئی بیر چلا آرہا ہو۔ بدلے یک رنگی کے یہ ناآشنائی ہے غضب ایک ہی خرمن کے دانوں میں جدائی ہے غضب ہو گیا مانند آب ارزاں مسلماں کا لہو مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز [1] دیکھیے: مسند احمد: ۳/۱۴۵۔ سنن ابن ماجہ، حدیث: ۳۹۹۲، ۳۹۹۳۔ جامع الترمذی : ۲۶۴۰، ۲۶۴۱۔ سنن ابی داؤد: ۴۵۹۶۔ محدّث العصر فضیلۃ الشیخ/ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ان احادیث پر حسنٌ صحیحٌ اور حسنٌ کا حکم لگایا ہے۔