کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 159
مشیت کے بغیر مکہ بھی فتح نہ کیا اور آپ اپنے چچا ابوطالب کا سینہ ایمان کے لیے نہ کھول سکے بلکہ وہ شرک پر ہی مرگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ﴿ إِنَّکَ لَا تَہْدِی مَنْ اَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّہَ یَہْدِی مَنْ یَشَائُ ﴾[القصص:۵۶] ’’ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔ ‘‘ دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِینًا o﴾ [الفتح:۱] ’’ ہم نے تجھے واضح فتح عنایت کی ہے۔ ‘‘ (۶) … کتاب ’’ دلائل الخیرات ‘‘ کا مؤلف ساتویں حصے میں یوں لکھتا ہے: (( أَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ مَا سَجَعَتِ الْحَمَائِمُ وَنَفَعَتِ التَّمَائِمُ۔ )) ’’ اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت تک دُرود ہوں جب تک قمریاں گنگناتی رہیں اور جب تک تعویذ فائدہ پہنچاتے رہیں ۔ ‘‘ تمیمہ اس پتھر یا دھاگے وغیرہ کو کہتے ہیں جو بچوں اور بڑوں کے جسم پر نظر بد سے بچاؤ کے لیے باندھا جاتا ہے۔ یہ نہ لٹکانے والے کو فائدہ دے سکتا ہے اور نہ اس مریض کو جسے باندھا جائے۔ بلکہ یہ مشرکین کی عادات میں سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَنْ عَلَّقَ تَمِیمَۃً فَقَدْ اَشْرَکَ۔ )) [1] ’’ جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا۔ ‘‘ مذکورہ صیغہ دُرود بھی مذکور بالا حدیث کے خلاف ہوا۔ تعویذ باندھنے، لٹکانے والا اس شرک کے کام کو اللہ کے قرب کا ذریعہ بناتا ہے۔ بس اللہ ہی عافیت اور ہدایت دے۔ اس [1] مسند أحمد: ۳۷/ ۳۷۴۔