کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 157
ہر چیز میں تو آدم اور ابلیس بھی شامل ہیں ۔ بندر اور خنزیر بھی شامل ہیں ۔ کیا کوئی عقل مند تسلیم کرے گا کہ یہ سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے پیدا کیے گئے ہیں ؟ (معاذ اللہ) جبکہ شیطان نے اپنی اور آدم علیہ السلام کی تخلیق کی وضاحت کی اور کہا: جیسا کہ قرآن میں ہے: ﴿ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِی مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ o﴾ [صٓ:۷۶] ’’ میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔ ‘‘ تو یہ آیت شامی شیخ کے کلام کو باطل قرار دیتی ہے۔ (۴) … ایک اور بدعتی درود یوں بھی ہے: (( اَلصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، ضَاقَتْ حِیْلَتِیْ فَادْرِکْنِیْ یَا حَبِیْبَ اللّٰہِ۔ )) ’’ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر درود و سلام ہوں ، میری کوشش کم پڑگئی ہے۔ آپ میری مدد کریں ، اے اللہ کے حبیب! ‘‘ اس کا پہلا حصہ تو کسی حد تک درست ہے۔ [1] لیکن خطرہ اور شرک تو دوسرے جملے میں ہے یہ اللہ کے اس فرمان کے خلاف ہے۔ ﴿ اَمْ مَنْ یُجِیبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوئَ وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآئَ الْاَرْضِ ط ئَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِط قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ o﴾ [النمل:۶۲] ’’ کون ہے جو مجبور کی فریاد سنتا ہے اور مصیبت دُور کرتا ہے؟ اور کون ہے جو تم لوگوں کو زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بناتا ہے؟ کیا اب بھی یہی کہوگے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی الٰہ ہے؟ تم لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔ ‘‘ اور اس آیت کے بھی مخالف ہے، فرمایا: ﴿ وَإِنْ یَمْسَسْکَ اللَّہُ بِضُرٍّ فَـلَا کَاشِفَ لَہُ إِلَّا ہُوَط وَإِنْ یَمْسَسْکَ بِخَیْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ o﴾ [الانعام:۱۷] [1] یہ جملہ بعض صحابہ سے قبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے موقع پر ثابت ہے۔ زیارت کے علاوہ ثابت نہیں ہے۔