کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 155
السَّلَامَ۔ )) [1] ’’ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین پر پھرتے رہتے ہیں ۔ وہ مجھے میری اُمت کا سلام پہنچاتے ہیں ۔ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے خصوصاً جمعہ والے دن۔ اور یہ اللہ کے قرب کے حصول کا افضل ترین طریقہ ہے۔ دُرود کے وسیلے سے دُعا کرنا جائز ہے۔ کیوں کہ یہ بھی تو عمل صالح ہے۔ چنانچہ ہم یوں کہیں گے: اے اللہ! میرے نبی پر دُرود پڑھنے کے واسطے سے میری مصیبت دُور کردے۔ خود ساختہ دُرود و سلام آج ہم بہت سے دُرود سنتے ہیں جو نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں ، نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے، نہ تابعین اور نہ ہی مجتہد اماموں سے رحمہم اللہ جمیعاً۔ بلکہ یہ بعد کے مولویوں نے خود گھڑے ہیں جو بعد میں علماء اور عوام میں رواج پاگئے۔ انھوں نے ثابت شدہ دُرود چھوڑ کر انہی دُرودوں کو پڑھنا شروع کردیا اور اپنے مشائخ کے نام سے ان کو مشہور کیا۔ اگر بغور دیکھا جائے تو ان صیغوں میں اس نبی کی مخالفت نظر آتی ہے، جن پر دُرود پڑھا جارہا ہے۔ (۱)…چند ایک بدعتی دُرود یہ ہیں : (( أَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ طَبِّ الْقُلُوْبِ وَدَوَائِ ہَا وَعَافِیَۃِ الْأَبْدَانِ وَشِفَائِ ہَا۔ وَنُوْرِ الْأَبْصَارِ وَضِیَائِہَا وَعَلَی اٰلِہِ وَسَلِّمْ۔)) ’’ اے اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود ہو۔ جو دلوں کی طب اور دوا ہیں ۔ بدن کی عافیت اور شفا ہیں ۔ آنکھوں کا نور اور روشنی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل پر بھی سلام ہو۔ ‘‘ بلاشبہ آنکھ، بدن اور دلوں کو عافیت اور شفاء دینے والا صرف ایک اللہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شفاء دینے کے لیے نہ اپنے لیے اختیار رکھتے ہیں نہ دوسروں کے لیے۔ دُرود کا یہ [1] مسند أحمد: ۸/ ۲۶۵۔