کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 151
رکھے گا اوراپنی ذات، اہل اور شہوات کی مخالفت کرے گا۔ اگر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جھوٹا دعویدار ہوگا تو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اپنے نفس اور شیطان کی فرمانبرداری کرے گا۔ (۵)…اگر کسی عام مسلمان سے پوچھیں : کیا آپ کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں ! میرا جان و مال ان پر قربان ہو۔ اور اگر آپ اُس سے یہ سوال کرلیں کہ پھر تو داڑھی کیوں چھیلتا ہے؟ اور ان کی یہ یہ نافرمانی کیوں کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حالت، آپ کے اخلاق اور توحید میں آپ کی مشابہت اختیار کیوں نہیں کرتا؟ اس کا جواب ہوگا: محبت دل میں ہوتی ہے، اللہ کا شکر ہے میرا دل صاف ہے۔ ہم کہتے ہیں : اگر تیرا دل صاف ہوتا تو اس کا کوئی اثر وجود پر بھی ظاہر ہوتا۔ کیوں کہ حدیث شریف میں ہے: (( اَ لَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَۃٌ إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ، اَ لَا وَہِيَ الْقَلْبُ۔ )) [1] ’’ خبردار! جسم میں ایک بوٹی ہے اگر وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہوتا ہے اور اگر وہ خراب ہو تو سارا جسم خراب رہتا ہے۔ جان لیجیے کہ اس کا نام دل ہے۔ ‘‘ (۶)…میں ایک مسلمان ڈاکٹر کے کلینک پر گیا، وہاں مردوں اور عورتوں کی تصاویر لٹک رہی تھیں ۔ میں نے اسے نصیحت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔ مگر اس نے میری بات ٹھکرادی اور کہنے لگا:یہ میرے جامعہ کے کلاس فیلو ہیں ۔ ان میں اکثریت کافروں کی تھی۔ خصوصاً وہ عورتیں جو تصویر کے لیے بال بکھیر کر زینت نمائی کرکے پوز بناتی ہیں ۔ اور تھیں بھی کسی کیمونسٹ ملک کی۔ میں نے ڈاکٹر کو نصیحت کی کہ تم داڑھی نہ مونڈا کرو۔ مگر اس نے نصیحت کو اپنی توہین سمجھا۔ کہنے لگا: میں تو اسی شکل میں ڈاڑھی منڈا ہی مروں گا۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ ڈاکٹر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی مخالفت کرنے والا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا جھوٹا دعوے دار تھا۔ مجھے کہنے لگا: آپ یوں کہو: ’’ اے اللہ کے رسول! [1] صحیح البخاري: ۱/ ۱۰۰، کتاب الإیمان، باب: فَضْلِ مَنِ اسْتَبْرَاَ لِدِینِہِ۔