کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 138
﴿ عَالِمُ الْغَیْبِ فَـلَا یُظْہِرُ عَلَی غَیْبِہِ اَحَدًا o إِلَّا مَنِ ارْتَضَی مِنْ رَسُولٍ o﴾ [الجن:۲۶۔۲۷] ’’ اللہ عالم الغیب ہے جس کا وہ کسی پر اظہار نہیں کرتا۔ مگر رسولوں میں سے جس پر وہ پسند کرے، (یعنی غیب میں سے کچھ ظاہر کردیتا ہے اور اس وقت وہ غیب نہیں رہ جاتا۔) ‘‘ یہاں صرف رسول کا ذکر ہے، اس کے علاوہ کسی کا نہیں ہے۔ بعض لوگ کسی قبر پر قبہ دیکھ کر اس کو ولی سمجھ لیتے ہیں ، حالانکہ ممکن ہے وہ قبر کسی فاسق کی ہو یا اس میں کوئی مدفون ہی نہ ہو۔ قبر پر عمارت بنانے سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ (( نَہَی اَنْ یُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَاَنْ یُقْعَدَ عَلَیْہِ وَاَنْ یُبْنٰی عَلَیْہِ۔)) [1] ’’ آپ نے قبر کو پختہ کرنے۔ اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا۔‘‘ تو ولی وہ نہیں جو مسجد میں دفن ہو یا اس کا کوئی مزار ہو، یا اس پر قبہ ہو بلکہ یہ سب اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔ جیسا کہ میت کو خواب میں دیکھنا بھی اس کی ولایت کی شرعی دلیل نہیں ۔ ہوسکتا ہے یہ خواب شیطانی ہو۔ خرافات نہ کہ کرامات مجلہ التوحید نے ایک مضمون شائع کیا: ’’ دسوقی کے بارے میں خرافات ‘‘ اس میں لکھا ہے کہ الصاوی کتاب کے حاشیہ میں لکھا ہے : وہ ساری زبانیں جانتا تھا۔ عربی، عجمی، سریانی، درندوں اور پرندوں کی بولیاں جانتا تھا۔ اس نے بچپن میں (پنگوڑے میں ) روزہ رکھا اور اس نے لوحِ محفوظ کو بھی دیکھا اور اس کے ایک قدم کے لیے پوری دنیا کی زمین ناکافی تھی۔ اور یہ کہ وہ اپنے مریدوں کے نام بدبختوں کی لسٹ سے نکال کر خوش بختوں میں لکھ دیتا تھا۔ اور ساری دنیا اس کی انگلی میں انگوٹھی کی طرح تھی۔ اور یہ کہ وہ سدرۃ المنتہیٰ سے بھی آگے گیا تھا۔ [1] صحیح مسلم: ۶/ ۲۰۵۔ کتاب الجنائز، باب: النَّہْيِ عَنْ تَجْصِیصِ الْقَبْرِ وَالْبِنَائِ عَلَیْہِ۔