کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 134
لَا انْفِصَامَ لَہَا وَاللَّہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ o﴾ [البقرۃ:۲۵۶] ’’ بس جس نے طاغوت کا انکار کیا اور وہ اللہ پر ایمان لایا تو اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جس کو ٹوٹنا نہیں ہے۔ اللہ خوب سننے والا اور خوب علم والا ہے۔‘‘ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ غیراللہ کی عبادت سے بچے بغیراللہ کی عبادت بھی فائدہ نہیں دیتی۔ اس معنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: (( مَنْ قَالَ لَا إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَکَفَرَ بِمَا یُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّہِ حَرُمَ مَالُہُ وَدَمُہُ۔)) [1] ’’ جس نے کہا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور جن کی پوجا اللہ کے سوا کی جاتی ہے، اُن کا انکار کیا تو اس کا مال اور خون حرام ہوگیا۔ ‘‘ نفاق کی اقسام (۱) … نفاقِ اکبر: یہ ہے کہ زبان سے اسلام کا اظہار کرنا اور دل سے کفر والا عقیدہ رکھنا۔ اس کی بھی کئی صورتیں ہیں : الف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کی بعض باتوں کو جھوٹا قرار دینا۔ ب : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کی بعض باتوں سے بغض رکھنا۔ ج : اسلام کی کسی شکست پر خوش ہونا اور فتح کو ناپسند کرنا۔ نفاق والے کی سزا کافر سے بدتر ہے اور اس کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ اللہ نے فرمایا: ﴿ إِنَّ الْمُنَافِقِینَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیرًا o﴾ [النساء:۱۴۵] [1] صحیح مسلم: ۱/ ۱۵۳۔ کتاب الإیمان، باب: الاَمْرِ بِقِتَالِ النَّاسِ حَتَّی یَقُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ۔