کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 126
کو اللہ نے حکم دیا: ﴿ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْہُمْ کُلَّ بَنَانٍ o﴾ [الانفال:۱۲] ’’ ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے ہر جوڑ پر مارو۔ ‘‘ اور موحد مومنوں کی مدد مکمل ہوئی تو کہا: ﴿ وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللَّہُ بِبَدْرٍ وَاَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ فَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ o﴾ [آل عمران:۱۲۳] ’’ اور یقینا اللہ نے تمہاری بدر کے موقع پر اس وقت مدد کی جب تم کمزور تھے تاکہ تم شکر کرو۔ ‘‘ اور اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دُعا فرمارہے تھے: (( اللَّہُمَّ اَنْجِزْلِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّہُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي، اللَّہُمَّ إِنْ تَہْلِکْ ہَذِہِ الْعِصَابَۃُ مِنْ اَہْلِ الإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْاَرْضِ۔)) [1] ’’ اللہ جی! اپنا وعدہ پورا فرمائیں ، اللہ جی! جو آپ نے وعدہ کیا وہ (مدد) عطا فرمائیں ، اللہ جی! اگر اہل اسلام میں سے یہ مجاہد ہلاک ہوگئے تو زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی۔ ‘‘ ہم دیکھتے ہیں کہ آج مسلمان اکثر ممالک میں اپنے دشمنوں کے خلاف معرکے لڑرہے ہیں ، مگر فتح یاب نہیں ہورہے۔ [2] اس کا کیا سبب ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ وعدہ [1] صحیح مسلم: ۱۲/ ۲۸۔ کتاب الجہاد والسیر، باب الإِمْدَادِ بِالْمَلاَئِکَۃِ فِي غَزْوَۃِ بَدْرٍ وَإِبَاحَۃِ الْغَنَائِمِ، حدیث: ۴۵۸۸۔ [2] دراصل جہاد کا فریضہ تو پوری اُمت پر عائد ہوتا ہے، اور اُمت ابھی تک ایک فیصد نوجوان بھی میدان میں نہیں نکال سکی، جب کہ دشمن ساری دنیا کو اتحادی بنا کر جدید اسلحہ کے ساتھ میدان میں اُترا ہے۔ تاریخ نے آج تک یہ منظر نہیں دیکھا تھا کہ ساری دُنیا کے سارے مسلمان اور کافر حکمران ایک طرف ہوں اور اکیلے مجاہد دوسری طرف ہوں ، پھر بھی انھیں کے قدم بڑھ رہے ہیں ، دشمن بھاگ رہا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی فتح ہے کہ ان مٹھی بھر لوگوں نے ساری دُنیا کی اتحادی افواج کو پیش قدمی سے روک رکھا ہے؟ مگر یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ مذکورہ اوصاف میں کمزوری بعض جماعتوں میں پائی جاتی ہے۔ اللہ ہم سب کو سیدھی راہ پر چلا کر ہماری مدد فرمائے۔ فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اترسکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی