کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 119
(۴) … اللہ تعالیٰ کی صفات کا وسیلہ: جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: (( یَا حَيُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیثُ۔ )) [1] ’’ اے ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والے اللہ! میں آپ سے آپ کی رحمت کا واسطہ دے کر مدد کا سوال کرتا ہوں ۔ ‘‘ شیخ رفاعی رحمہ اللہ نے کہا ہے: ’’ اللہ کی اس کے دوستوں سے جو محبت ہے اس کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے اپنی ضروریات کا سوال کیا کرو۔ ‘‘ (۵) … نیک اعمال کا واسطہ: جیسے نماز، والدین سے حسن سلوک، لوگوں کے حقوق کی حفاظت، امانت، دیانت، صدقہ، ذکر الٰہی، تلاوتِ قرآن، درود شریف اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت وغیرہ نیک اعمال وسیلہ بن سکتے ہیں ۔ صحیح مسلم میں غار والوں کا قصہ بیان ہوا ہے جو غار میں داخل ہوئے تو ایک پتھر نے غار کو بند کردیا۔ انھوں نے مزدور کے حق کی حفاظت اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کا وسیلہ لیا تو اللہ نے ان کو نجات دے دی۔ (۶) … گناہ چھوڑنے کا وسیلہ: اللہ تعالیٰ کی جناب میں شراب، چوری وغیرہ چھوڑنے کا وسیلہ لینا۔ مذکورہ قصہ غار میں تیسرے آدمی نے بدکاری چھوڑنے کا وسیلہ لیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نجات دے دی تھی۔ بعض مسلمانوں نے نیک کام اور ان کا وسیلہ لینا چھوڑ کہ فوت شدگان کے اعمال کا وسیلہ لینا شروع کردیا ہے جو سراسر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے کے خلاف ہے۔ (۷) … نیک لوگوں سے دُعا کروا لینا: ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتا ہے کہ آپ دُعا کردیں : اللہ مجھے [1] سنن الترمذي: ۱۳/ ۲۵، کتاب الدعوات، باب: یَا حَيُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیث۔