کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 117
بڑا گناہ ہے۔ اور اس لیے کہ اس سے بندے کے تمام نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں ۔ جس میں اُمت اور انسانیت کا نفع اور خدمت بھی شامل ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿ وَقَدِمْنَا إِلَی مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاہُ ہَبَائً مَنْثُورًا o﴾[الفرقان:۲۳] ’’ ہم ان کے اعمال کی طرف آئے اور ان کو پھیلا ہوا غبار بنا کر رکھ دیا۔ ‘‘[1] مسنون وسیلہ: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ یٰٓاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَابْتَغُوا إِلَیْہِ الْوَسِیلَۃَ وَجَاہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ o﴾ [المائدۃ:۳۵] ’’ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرجاؤ اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اللہ کے دشمنوں سے ربّ کی راہ میں لڑو، (اس کی رضامندی کے لیے) تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔ ‘‘ اس آیت کی تفسیر میں امام قتادہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’ اللہ کی فرمانبرداری اور اس کو خوش کرنے والے کام کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو۔ ‘‘ تو مسنون و جائز وسیلہ وہی ہے جس کا قرآن نے حکم دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیان کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر عمل کرکے دکھایا۔ اس کی متعدد اقسام ہیں ۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں : مسنون توسل کی اقسام (۱) … ایمان کا وسیلہ: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا اپنے ایمان کو وسیلہ بنانے کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں : [1] یہ اقتباس شیخ عبداللہ خیاط کی کتاب ’’ دلیل المسلم فی الاعتقاد ‘‘ سے ماخوذ ہے۔