کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 115
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ مَا لَا یَضُرُّہُمْ وَلَا یَنْفَعُہُمْ وَیَقُولُونَ ہَؤُلَائِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّہِط قُلْ اَتُنَبِّؤنَ اللَّہَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوَاتِ وَلَا فِی الْاَرْضِط سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ o﴾[یونس:۱۸] ’’ اوروہ اللہ کے علاوہ ان کی پوجا کرتے ہیں جو نہ ان کو نقصان دے سکتے ہیں اور نہ نفع دیتے ہیں ، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے اللہ کے مقابلے میں سفارشی ہیں ۔ ان سے پوچھئے: کیا تم اللہ کو ایسی بات بتاتے ہو جس کو وہ زمینوں اور آسمانوں میں نہیں جانتا؟ اللہ پاک اور اعلیٰ ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ ‘‘ اور یہ عیسائی لوگ یہ بھی اللہ کی نافرمانی اس زعم میں گرتے چلے جاتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ان کے گناہوں کے بدلے سولی پر چڑھ گئے ہیں۔ بعض مسلمان بھی واجبات ترک کرکے حرام کاموں کا ارتکاب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش پر اعتماد کرتے ہوئے کرتے چلے جاتے ہیں کہ وہ ہمیں سفارش کرکے جنت میں داخل کردیں گے۔ حالاں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے ہیں : (( وَیَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِینِي مَا شِئْتِ مِنْ مَالِي لَا اُغْنِي عَنْکِ مِنَ اللَّہِ شَیْئًا۔)) [1] ’’ اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے میرے مال میں سے جتنا چاہے مانگ لے، مگر میں اللہ کے مقابلے میں تیرے کسی کام نہیں آؤں گا۔ ‘‘ (۶)…آخرت کے عذاب کا سبب: شرک ہمیشہ کی جہنم کا سبب ہے اور شرک دنیا میں ضائع ہونے اور آخرت کے مستقل [1] صحیح البخاري: ۱۰/ ۱۱۵، کتاب الوصایا، باب ہَلْ یَدْخُلُ النِّسَائُ وَالْوَلَدُ فِي الاَقَارِبِ، حدیث: ۲۷۵۳۔