کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 113
﴿ وَالَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ لَا یَخْلُقُونَ شَیْئًا وَہُمْ یُخْلَقُونَ o اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَائٍ وَمَا یَشْعُرُونَ اَیَّانَ یُبْعَثُونَ o﴾ [النحل:۲۰۔۲۱] ’’ وہ لوگ جو غیراللہ کو پکارتے ہیں وہ (معبود) کچھ پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں ۔ وہ مردہ ہیں زندہ نہیں ۔ اور وہ یہ نہیں شعور رکھتے کہ ان کو کب دوبارہ اُٹھایا جائے گا۔ ‘‘ اور اللہ کا فرمان ہے: ﴿ وَمَنْ یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَہْوِی بِہِ الرِّیحُ فِی مَکَانٍ سَحِیقٍ o﴾ [الحج:۳۱] ’’ اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، گویا وہ آسمان سے گرا، پھر اُس کو پرندے اچک لیتے ہیں یا پھر ہوا اس کو گہرے گڑھے میں ڈال دیتی ہے۔ ‘‘ (۲)… شرک خرافات اور باطل اشیاء کا گھونسلہ ہے: کیوں کہ جو آدمی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اس جہان میں اللہ کے علاوء کوئی ستارہ، کوئی جن یا روح بھی مؤثر ہے۔ (ان کی بات بھی مانی جاتی ہے) تو اس کی عقل خرافات کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوجاتی اور ہر دھوکے باز کی تصدیق کرنے لگ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں کاہن، نجومی، جادوگر اور عاملوں کی عبادت کی جاتی ہے، جو علم غیب کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ جب کہ یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ اسی طرح ایسے معاشرے میں اسباب اور وسائل کو بروئے کار نہ لانے کی عادت بھی عام ہوجاتی ہے۔ (۳)… شرک بہت بڑا ظلم ہے: یہ حقیقت کے ساتھ ظلم ہے، کیوں کہ سب سے بڑی حقیقت لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ ہے کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اس کے سوا کوئی ربّ نہیں ۔ کسی کا حکم نہیں چلتا۔ لیکن مشرک نے اللہ کے سوا معبود بنالیا۔ اس کے علاوہ حاکم تلاش کرلیا۔ شرک نفس پر بھی ظلم ہے کہ اس نے اپنے جیسے یا اس سے بھی کمتر شخص کا اپنے آپ کو بندہ بنادیا حالانکہ اللہ نے اس کو آزاد