کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 108
(یعنی جب فرمانبرداری کرنے والا اس کو جائز قرار دے۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِيْ مَعْصِیَۃِ اللَّہِ عَزَّوَجَلَّ۔ )) [1] ’’ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرمانبرداری جائز نہیں ہے۔ ‘‘ اور اللہ کا فرمان ہے: ﴿ اتَّخَذُوا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّہِ وَالْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَا اُمِرُوا إِلَّا لِیَعْبُدُوا إِلَہًا وَاحِدًا ط لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ سُبْحَانَہُ عَمَّا یُشْرِکُونَ o﴾ [التوبۃ:۳۱] ’’ ان اہل کتاب نے اپنے علماء و مشائخ کو اللہ کے سوا ربّ بنالیا ہے اور عیسیٰ بن مریم ( علیہما السلام ) کو بھی۔ حالاں کہ ان کو صرف ایک معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ پاک ہے، ان سے جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ ‘‘ اور حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی ہے کہ اس ربّ بنالینے سے ان کا اپنے علماء و مشائخ کی اللہ کے حرام کو حلال قرار دینے میں طاعت بردار ہے۔ آستانے اور مزار: شام، عراق، پاکستان اور مصر جیسے مسلمان ملکوں میں جو ہم آستانے وغیرہ دیکھتے ہیں تو یہ سراسر اسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر عمارت بنانے سے منع فرمایا۔ صحیح حدیث میں ہے: (( نَہَی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ یُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَاَنْ یُقْعَدَ عَلَیْہِ وَاَنْ یُبْنٰی عَلَیْہِ۔ )) [2] [1] مسند أحمد: ۸/ ۴۹۳۔ [2] صحیح مسلم: ۶/ ۲۰۵، کتاب الجنائز، باب النَّہْيِ عَنْ تَجْصِیصِ الْقَبْرِ وَالْبِنَائِ عَلَیْہِ۔