کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 105
مسجد میں دفن کردیا جاتا ہے۔ اکثر اسلامی ممالک میں آپ کو مساجد میں قبریں نظر آئیں گی۔ ان میں سے اکثر پر قبے بنادیے جاتے ہیں ۔ اور پھر بعض لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان قبر والوں سے مانگنے لگ جاتے ہیں ، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: (( لَعْنَ اللَّہُ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ اَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔)) [1] ’’ اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے، انھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ ‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ لوگوں کو اس سے منع فرماتے تھے۔ اگر انبیاء کرام کو مساجد میں دفن کرنا جائز نہیں تو علماء و مشائخ کو دفن کرنا کیسے جائز ہوگا؟ اور یہ معروف ہے کہ اس مدفون کو اللہ کے مقابلے میں پکارا جاتا ہے اور یہ شرک کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اسلام شرک کو بھی حرام قرار دیتا ہے اور اس کی طرف لے جانے والے وسائل کو بھی محروم قرار دیتا ہے۔ (۳) تیسرا مظہر ہے اولیائِ کرام کے نام کی نذر و نیاز دینا: بعض لوگ بکرے یا مال کی نذر مانتے ہیں کہ یہ فلاں ولی کے نام ہے۔ تو یہ نذر شرک ہے، ایسی نذر پوری کرنا حرام ہے۔ کیوں کہ نذر عبادت ہے اور اسے صرف اللہ کے لیے ہونا چاہیے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿ یُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُونَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہُ مُسْتَطِیرًا o﴾[الإنسان:۷] [1] صحیح مسلم: ۳/ ۴۵۱، کتاب المساجد، باب النَّہْيِ عَنْ بِنَائِ الْمَسَاجِدِ عَلَی الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِیہَا وَالنَّہْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ، حدیث: ۱۱۸۴۔