کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 104
اس کو اسلام سمجھتے ہیں ، اس لیے اس کا ردّ بھی نہیں کرتے۔ جبکہ اسلام شرک کے تمام مناظر و مظاہر کو ختم کر کے اس کے اسباب کو بھی ختم کرنے کے لیے آیا ہے۔ شرک کے ان مظاہر و مناظرمیں سے اہم یہ ہیں : (۱) غیراللہ کو پکارنا: اور یہ بات عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے تاریخی مواقع پر پڑھی جانے والی نعتوں میں بالکل عیاں ہوجاتی ہے۔ ایک نعت خواں کہتا ہے: یَا اِمَامَ الرُّسُلِ یَا سَنَدِیْ أَنْتَ بَابُ اللّٰہِ وَمُعْتَمَدِیْ فِیْ دُنْیَايَ وَآخِرَتِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ خُذْ بِیَدِيْ مَا یُبْدِلُنِیْ عُسْرٍ یُسْرًا إِلاَّکَ یَا تَاجَ الْحَضْرَۃِ ’’ اے امام الانبیاء! اے میرے سہارے! آپ ہی اللہ کا دروازہ اور آپ ہی پر دنیا و آخرت میں میرا بھروسہ ہے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا ہاتھ تھام لیں ۔ اے حاضرین کے تاج! تیرے سوا میری تکلیف کو آسانی کے ساتھ اور کوئی نہیں بدل سکتا۔ ‘‘ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خود سماعت فرمالیتے تو اس سے بری الذمہ ہوجاتے۔ کیوں کہ تنگی کو آسانی کے ساتھ صرف اللہ ہی بدلتا ہے۔ [1] اسی طرح کے شعری قصیدے جو اخبارات، مجلات اور کتب کی زینت بنتے ہیں ، ان میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء و صالحین کرام سے مدد، غوث اور نصرت طلب کی گئی ہے۔ جب کہ وہ سب یہ کام کرنے سے عاجز ہیں ۔ (۲)…شرک کا دوسرا مظہر: یہ ہے کہ اولیاء کرام اور صالح لوگوں کو مرنے کے بعد [1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دُعا فرمایا کرتے تھے: (( أَللّٰہُمَّ لَا سَہْلَ إِلاَّ مَا جَعَلْتَہُ سَہْلًا وَأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزَنَ إِذَا شِئْتَ سَہْلًا۔)) … ’’ اے اللہ! کوئی چیز آسان نہیں مگر جسے تو آسان کردے۔ تو جب چاہے غم کو آسان کردیتا ہے۔ ‘‘ قارئین غور فرمائیں یہ نعت خواں سچا ہے یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں جو بذاتِ اطہر خود اللہ رب العالمین سے آسانی کے لیے درخواست کرتے تھے؟اَللّٰہُمَّ اہْدِہِمْ یَا رَبَّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ۔