کتاب: نجات یافتہ کون - صفحہ 102
کا ارتکاب کرنے والا اسلام سے خارج نہ ہوتا ہو تو یہ عمل کبیرہ گناہ شمار ہوتا ہے۔ اسے عام اصطلاح میں شرکِ اصغر بھی کہا جائے گا۔ جیسے کہ: (۱) … ریاکاری: ریاکاری یہ ہے کہ: لوگوں کے لیے بناوٹ، خودنمائی کرنا۔ جیسے کوئی مسلمان کوئی کام تو اللہ کے لیے کرے، اسی کے لیے نماز پڑھے، مگر اس کو خوبصورت اس لیے بنائے کہ لوگ کہیں : کیا اچھی نماز پڑھتا ہے! دیکھو یہ آدمی فلاں نیکی کا کام کتنا عمدہ کررہا ہے۔ جب کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿ فَمَنْ کَانَ یَرْجُو لِقَائَ رَبِّہِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہِ اَحَدًا o﴾ [الکہف:۱۱۰] ’’ تو جو اپنے رب سے ملاقات کی اُمید رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ صالح عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّ اَخْوَفَ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمُ الشِّرْکُ الَاصْغَرُ ))۔ قَالُوا وَمَا الشِّرْکُ الَاصْغَرُ یَا رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ: (( الرِّیَائُ یَقُولُ اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِذَا جُزِئَ النَّاسُ بِاَعْمَالِہِمْ، اذْہَبُوا إِلَی الَّذِینَ کُنْتُمْ تُرَاؤنَ فِي الدُّنْیَا فَانْظُرُوا ہَلْ تَجِدُونَ عِنْدَہُمْ جَزَائً۔ )) [1] ’’ مجھے سب سے زیادہ تمہارے بارے میں شرکِ اصغر، ریاکاری کا ڈر ہے۔ اللہ جب قیامت والے دن لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا تو ایسے لوگوں کو کہے گا جو دکھلاوے کے لیے دنیا میں اعمال کیا کرتے تھے: ان کے پاس چلے جاؤ جن کو تم دکھا دکھا کر عمل کیا کرتے تھے، پھر دیکھو کیا اُن کے پاس کوئی جزاء ہے؟ [1] مسند احمد: ۵/ ۴۲۹ (۲۳۱۱۹)۔